اسرائیلی اپوزیشن کا پہلا حملہ: اسپیکر کنیسیٹ امیر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے پر اتفاق

امیر اوہانا کو ہٹانے سے نیتن یاہو مخالف کیمپ کو پارلیمنٹ کے تمام اہم فیصلے کنٹرول کرنے کی قوت مل جائے گی چاہے ، اپوزیشن اتحاد

November 1, 2026 · بام دنیا
نیتن یاہو کی جماعت کے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا، فائل فوٹو

نیتن یاہو کی جماعت کے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا، فائل فوٹو

تل ابیب: اسرائیل کی سیاست میں نئی کنیسیٹ (پارلیمنٹ) کے حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن اتحاد نے اپنی پہلی بڑی حکمت عملی پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مخالف اپوزیشن بلاک نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سازی سے قطع نظر، سب سے پہلے لیکوڈ پارٹی کے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے گا۔

کنیسیٹ کا اسپیکر پارلیمانی ایجنڈے، قانون سازی، رائے شماری اور مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا اہم اختیار رکھتا ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ امیر اوہانا کو ہٹانے سے نیتن یاہو مخالف کیمپ کو پارلیمنٹ کے تمام اہم فیصلے کنٹرول کرنے کی قوت مل جائے گی چاہے نیتن یاہو قائم مقام حکومت کے سربراہ کے طور پر ہی عہدے پر برقرار کیوں نہ رہیں۔

اسپیکر کا انتخاب کنیسیٹ کے آغاز پر اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ امیر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے اور اپنے امیدوار کو لانے کے لیے اپوزیشن بلاک کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عرب پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے لیے باضابطہ نئی حکومت کی تشکیل یا اس پر اتفاقِ رائے ضروری نہیں۔