پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر پر بحیرہ عرب میں حملہ، عرب ممالک کا اظہار مذمت

قطری، سعودی اور کویتی حکام نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا

November 1, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

دوحہ/ریاض/کویت سٹی : بحیرہ عرب اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی کے دوران قطر کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے جہاز “المائدہ” پر نامعلوم سمت سے حملہ کیا گیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اہم ممالک نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی فراہمی اور بحری تجارت کی سلامتی پر حملہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ 30 اکتوبر 2026 کی شام قطر سے پاکستان کی جانب ایل این جی لے کر جانے والے قطری ٹینکر “المائدہ” کو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے محفوظ راستے کی پیشگی یقین دہانی کے باوجود جہاز پر نامعلوم اشیاء سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد جہاز نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی (ناقلیات) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور نہ ہی کسی قسم کا ماحولیاتی نقصان یا تیل/گیس کا اخراج ہوا ہے۔ جہاز کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور وہ محفوظ حالت میں خلیج فارس کے پانیوں میں منتقل ہو چکا ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے حملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قطر اپنے قومی و تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری ایک ہنگامی بیان میں حملے کی سخت مذمت کی۔ سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم ترین عالمی بحری راہداری کی حفاظت یقینی بنانے اور تجارت کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے فوری و عملی اقدامات کرے۔

کویتی حکام نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور خلیجی خطے میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سیکیورٹی کے لیے نادانی قرار دیا۔

واضح رہے کہ فروری 2026 سے اب تک اس اہم سٹریٹجک بحری راہداری میں 120 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔