عمران خان کا آئندہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا اعلان، غیر مشروط معافی مانگ لی

آئندہ نہ خود کسی احتجاج میں شریک ہوں گے اور نہ ہی براہِ راست یا بالواسطہ کسی دوسرے شخص کو ایسے مظاہروں میں شرکت کے لیے کہیں گے۔

November 4, 2026 · بام دنیا
عمران خان کا آئندہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا اعلان، غیر مشروط معافی مانگ لی

عمران خان کا آئندہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا اعلان، غیر مشروط معافی مانگ لی

بالی وڈ اداکار عمران خان نے بھارت میں ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے باعث پیدا ہونے والے قانونی تنازع پر بمبئی ہائی کورٹ سے غیر مشروط معذرت کرلی ہے۔ اداکار نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی احتجاجی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عمران خان نے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری بیان میں کہا ہے کہ وہ آئندہ نہ خود کسی احتجاج میں شریک ہوں گے اور نہ ہی براہِ راست یا بالواسطہ کسی دوسرے شخص کو ایسے مظاہروں میں شرکت کے لیے کہیں گے۔

اداکار کے مطابق وہ 10 اکتوبر کو جنوبی ممبئی کے آگسٹ کرانتی میدان کے قریب ہونے والے مظاہرے میں صرف یہ جاننے کے لیے پہنچے تھے کہ لوگوں کی نقل و حرکت محدود کیوں کی جا رہی ہے اور انہیں اپنی بات کہنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شرکت کا مقصد مظاہرین کے مطالبات کی حمایت یا ان کے مؤقف پر اثر انداز ہونا نہیں تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت ایم سیٹھنا پر مشتمل بینچ نے سوال اٹھایا کہ عمران خان نے خصوصی انتخابی نظرثانی سے متعلق احتجاج میں شرکت کیوں کی، جبکہ وہ اس عمل سے براہِ راست متاثر نہیں تھے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیرونِ ملک بھارتی شہری کا کارڈ رکھنے کی وجہ سے اداکار کو بھارتی شہریوں جیسے تمام آئینی حقوق حاصل نہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کا وہی حق حاصل نہیں جو بھارتی شہریوں کو حاصل ہے۔

عمران خان نے اپنے بیان میں بھارت کے ساتھ اپنے 42 سالہ تعلق، صاف قانونی ریکارڈ اور ذاتی و پیشہ ورانہ وابستگیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ بھارتی قوانین کا احترام کرتے آئے ہیں اور بھارت کے آئین سے محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شادی، بیٹی اور خاندان کے بھارت سے تعلق کے علاوہ ٹیکس کی ادائیگی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ذریعے بھارتی معیشت میں کردار کا بھی حوالہ دیا۔

واضح رہے کہ اداکار نے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کی جانب سے بھارت چھوڑنے کے نوٹس کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت نے یہ نوٹس 7 دسمبر تک معطل کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ اس دوران بھارتی قوانین کی پابندی کریں اور کسی بھی احتجاجی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔