سڈنی:فوسلز ہمیں کسی پودے اور جانور کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کتنے لاکھ سال پہلے زمین پر زندہ تھے، ان کا حجم کیا تھا، جسمانی ساخت کیسی تھی اور بھی بہت کچھ، مگر ایک چیز نہیں معلوم ہوتی کہ اس مخلوق کا رنگ کیا تھا۔کیا ٹی ریکس ڈائنا سور سبز رنگ کا تھا، ایسا کہنا اس لیے مشکل ہے کیونکہ نامیاتی قدرتی رنگت (جو کسی چیز کو مخصوص رنگ دیتی ہے) وقت کے ساتھ ختم ہونے لگتا ہے۔
مگر اب سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے پرانا نامیاتی رنگ (اب تک کا) دریافت کرلیا ہے جو کہ شوخ گلابی ہے جو کہ ایک ارب 10 کروڑ برس پرانی چٹانوں میں محفوظ رہا۔آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ رنگ مغربی افریقی ملک موریطانیہ میں صحرائے اعظم صحارا کے نیچے موجود میرین شیل کے ذخائر میں موجود ایک ارب دس کروڑ سال پرانی چٹانوں سے دریافت کیا۔
محققین کا کہنا تھایقیناً آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی رنگ ہوتا ہے، مگر ہم نے جو دریافت کیا ہے وہ قدیم ترین حیاتیاتی رنگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو مالیکیول دریافت کیا وہ کسی بڑی مخلوق کا نہیں بلکہ مائیکرو اسکوپک آرگنزمز کا ہے کیونکہ اس زمانے میں جانور ممکنہ طور پر دنیا میں موجود نہیں تھے۔
اس رنگ کو پی ایچ ڈی طالبہ نور گیونیلی نے دریافت کیا، جنھوں نے قدیم چٹانوں کو پیش کر سفوف بنایا اور پھر قدیم آرگنزمز کے مالیکیولز کا تجزیہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ شوخ گلابی رنگ کلورفول کے مالیکیولر فوسلز میں موجود تھا جو کہ ایسے آرگنزمز کا حصہ رہ چکا تھا جو کہ ایسے قدیم سمندر میں رہتے تھے جو اب معدوم ہوچکا ہے۔
ان چٹانوں کو درحقیقت صحرائے اعظم میں تیل کی تلاش کے لیے 10 سال قبل شروع ہونے والی مہم کے دوران نکالا گیا تھا جو بعد میں ایک ارب 10 کروڑ سال پرانی ثابت ہوئیں۔جب نور گیونیلی نے اس رنگ کو دریافت کیا، تو ان کے استاد کو یقین ہی نہیں آیا مگر بعد میں ثابت ہوگیا کہ یہ رنگ ایک ارب سے زائد پرانی ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔