حالیہ دنوں میں افغانستان کے اندر ایک ڈرون گرنے کی خبریں آئی تھیں۔ اس حوالے تفصیلات بھی آگئی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت کابل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرنے والا فوجی ڈرون MQ-9 تھا۔ یہ طیارہ امریکی ساختہ ہے اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک ڈرون تکنیکی خرابی کی وجہ سے میدان وردک صوبے میں طالبان کے سپیشل فورسز کے ہیڈ کوارٹر اور ٹریننگ سینٹر کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ان ذرائع کے مطابق طیارہ گرنے کے وقت فضا میں ایک اور ڈرون بھی دیکھا گیا۔
طالبان حکومت نے باضابطہ طور پر ڈرون حادثے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہا کہ ہم نے ایک تحقیقاتی ٹیم کو علاقے میں بھیج دیا ہے، طیارے کے ملبے کو کابل منتقل کر دیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکی ڈرون ہے۔
طالبان کے ایک اور سرکاری اہلکار نے غیر ملکی میڈیا کو اس ڈرون طیارے کی مختلف تصاویر بھی دکھائیں اور بتایا کہ یہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرون ہے جو اس سے پہلے افغانستان میں استعمال ہوتا رہا ہے۔امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں ڈرون گرنے کے بارے میں تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے پاس اس پر کہنے کو کچھ نہیں ۔
گرنے والے ڈرون طیارے کی تصاویر کا جائزہ لیاگیا اور پتہ چلا کہ تصاویر اصلی تھیں، ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی تھی اور یہ MQ-9 طیارے سے کافی مشابہت رکھتی ہیں۔
امریکی فضائیہ کی سرکاری معلومات کے مطابق یہ ڈرون طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہدف کو پہچان کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پہلے مرحلے میں اسے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے متحرک اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
طویل مدت تک فضا میں موجود رہنے، وسیع سینسرز، متعدد قسم کے مواصلاتی آلات اور درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیار اسے اہداف کو ٹھیک طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔یہ ڈرون امریکہ کے ساتھ ساتھ نیٹو کے کچھ رُکن ممالک برطانیہ، فرانس، سپین اور اٹلی بھی استعمال کرتے ہیں۔ 2024 میں انڈیا نے امریکہ سے ان طیاروں کی خریداری کے لیے چار ارب ڈالرز کے معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔2011 میں ایک MQ-9 طیارے کے مکمل پیکج کا تخمینہ لگ بھگ 56 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، جس میں چار ڈرونز بشمول سینسر، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن اور پریڈیٹر کا مرکزی سیٹلائٹ لنک شامل تھا۔
قبل ازیں کچھ میڈیارپورٹس میں کہا گیاتھاکہ میدان وردگ میں گر کر تباہ ہونے والا ڈرون ایک بھارتی لڑاکا ڈرون بتایا جا رہا ہے۔جائے حادثہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈرون اسرائیلی ساختہ ہیرون (Heron) یو اے وی سے انتہائی مشابہ ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا تھاکہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ڈرون بھارت کا تھا تو اس کے سنگین اثرات افغان دارالحکومت کابل اور نئی دہلی کے تعلقات، نیز خطے کی سیکورٹی پر مرتب ہوں گے۔ یہ واقعہ خطے میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے تشویش بڑھانے والا قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں سیاسی و دفاعی ردعمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos