کراچی کی ایم اے جناح روڈ سسکیوں ،اندیشوں اور المیوں کی داستان سنانے لگی ہے۔ اس شاہراہ پر واقع تجارتی مرکز گل پلازہ ،جسے آ گ نے خاکسترکردیا، اب کئی دلدوز کہانیوں کاماخذہے۔
ہفتے کی رات 10 بجے کے لگ بھگ آگ بھڑکنے کے کئی گھنے بعدعمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو ئے اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ۔24 گھنٹوں سے زائد وقت گذرنے کے بعد جب فائرفائٹرزاندرداخل ہوسکے تو کسی ذی روح کے موجود ہونے کاپتا لگانے کے لیے آوازیں دی گئیں،ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔
لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں، متاثرین کے اہلخانہ رات سے اپنے پیاروں کی تلاش میں پلازہ اور اسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔شہر کے دور دراز علاقوں سے متاثرین کے اہل خانہ ، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں خوف کے ساتھ، اپنوں کی ایک جھلک، ایک آواز کی امید لیے کھڑے رہے۔
گل پلازہ کے باہرموجود محمد یعقوب آنکھوں میں امید کی ایک مدھم سی روشنی لیے کھڑے تھے، انہوں نےبتایاکہ میں ہفتے کی رات سے یہاں ہوں۔ میرا بھتیجا محمد عارف ابھی تک اندر پھنسا ہوا ہے۔مجھے عارف آخری کال آئی تھی جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے لڑ رہا ہوں، میں خطرے میں ہوں، مجھے بچا لو۔ اس کے بعد ہم نے بار بار فون کیا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ان کے بقول عارف گھر کا سب سے لاڈلا تھا۔ اس کی ماں صدمے میں ہے۔
عارف کی عمر صرف 22 سال ہے۔
ایک بوڑھی خاتون، صفیہ بی بی، سڑک کے کنارے کبھی ایک سمت تو کبھی دوسری سمت دیکھتی رہیں۔اتوارکی صبح نو بجے سے وہ اپنے پوتے کی راہ تک رہی تھیں۔انہوں نے بتایاکہ میرا پوتا میرے گھر کا چراغ ہے، میری جان ہے۔ کوئی ہمیں بتانے والا نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ میں کہاں جاؤں؟
گلشن اقبال کی رہائشی فیملی بھی اس وقت گل پلازہ میں موجود تھی جب وہاں آگ بھڑک اٹھی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کرلی۔متاثرہ فیملی میں عمر نبیل ، عائشہ سمیع اور ان کا نوعمر بیٹا علی بن عمر بھی ساتھ تھا جو کہ خریداری کی غرض سے وہاںگئے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ لاپتہ فیملی آنے والے بچے کی پیدائش سے قبل اس کے لیے کپڑے خریدنے آئی تھی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ،شادی کی خریداری کیلئے آئی ایک ہی خاندان کی4خواتین بھی لاپتا ہیں۔
پلازہ میں کراکری شاپ کا مالک ابوبکر بھی تاحال لاپتہ ہے، اس کے ہمراہ ملازمین بھی تھے ، ابوبکر کے بیٹے تاج محمد نے بتایا کہ ہفتے کی رات دکان کے ملازم نے فون کر کے بتایا کہ والد بے ہوش ہوگئے ہیں اور گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں۔ابوبکر کے بیٹے نے بتایا کہ وہ ہفتے کی رات سے اس مقام پر موجود ہوں اور اب تک والد اور ان کے ملازمین کے حوالے سے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
سوشل میڈیا پر جہانزیب نامی شہری کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ اس کے بہنوئی محمد اطہر سکھر سے گھر کی خریداری کرنے کے لیے گل پلازہ گئے تھے جو کہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔اطہر نے ہفتے کی شام کو آخری بار گھر کی خواتین سے کال پر بات کی تھی اور انھوں نے اہلخانہ کو بتایا تھا کہ یہاں آگ لگی ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا میری اور دیگر افراد کی خیریت کے لئے دعا کریں ، اطہر 4 بچوں کا باپ ہے۔
ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی کی اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر دی جاسکتی ہیں۔جاوید نبی کا کہنا ہے کہ واقعے میں گمشدہ افراد سے متعلق معلومات بھی انہی نمبرز پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos