حماس نے غزہ میں امن فورس بھیجنے والے ممالک کے لیے شرائط واضح کر دی ہیں۔
غزہ بورڈ آف پیس کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے پہلے حماس نے کہا کہ امن فورس صرف سرحد پر تعینات ہو اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سیکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرے۔ حماس کے مطابق اگر عالمی فورس فریقوں کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرے تو اسے قبول کیا جائے گا۔
حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے کہا کہ فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت ناقابل قبول ہے، اور اگر عالمی اہلکار مداخلت کریں تو فلسطینی انہیں قابضین کا متبادل تصور کریں گے۔ حماس کا موقف ہے کہ عالمی فورس کا کردار صرف فریقوں کو الگ رکھنا اور جنگ بندی قائم رکھنا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا نے غزہ امن فورس کے لیے آٹھ ہزار اہلکار بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، اور بورڈ آف پیس کے اجلاس میں عبوری حکومت، حماس اور مستقل جنگ بندی سمیت عالمی امن فورس کے امور زیر غور آئیں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos