اسرائیل ڈورن بھارت میں تیار ہوں گے، پاکستان کیخلاف خطرناک معاہدہ
تل ابیب: بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک نئی اور بڑی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔
فوربز انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انڈیا اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے بڑے دفاعی معاہدوں کی تیاری کر رہا ہے۔ ان معاہدوں میں سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور جدید ترین ‘آئس بریکر’ میزائل سسٹم شامل ہیں۔
ان دفاعی سودوں کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تنازع کے دوران ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے ڈرون گرانے کے دعوے کیے گئے۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 25 اسرائیلی ساختہ ہیروپ (Harop) ڈرونز کو مار گرایا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، گزشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد مئی میں ہونے والی عسکری کارروائیوں اور چار روز تک جاری رہنے والی آمنے سامنے کی جنگ نے انڈیا کو اپنی فضائی نگرانی اور حملے کی صلاحیت بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ میجر جنرل اشوک کمار کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے ڈرونز کا استعمال کیا، لیکن انڈیا کا مغربی محاذ مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کا اثر محدود رہا، تاہم مستقبل کے چیلنجز کے لیے جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مودی کے ممکنہ دورہ اسرائیل کے دوران ہیرون ایم کے 2 (Heron MK II) ڈرونز کی اضافی خریداری پر دستخط متوقع ہیں۔ اس ڈرون کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
مسلسل 45 گھنٹے تک ہوا میں رہ سکتا ہے۔35,000 فٹ کی بلندی تک اڑنے کی صلاحیت۔ 470 کلو گرام وزنی ہتھیار یا آلات لے جانے کی سکت،ہر قسم کے ناسازگار موسمی حالات میں کام کرنے کی صلاحیت۔
انڈیا اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ ‘میڈ ان انڈیا’ پالیسی کے تحت یہ ڈرونز مقامی سطح پر تیار کیے جائیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز اب محض جاسوسی کا آلہ نہیں بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔ اس کی حالیہ مثالیں روس یوکرین جنگ اور آرمینیا آذربائیجان تنازع ہیں۔
چار سال سے جاری اس جنگ میں یوکرین نے نیٹو ڈرونز اور اپنی مقامی سرمایہ کاری کی بدولت روس جیسی بڑی طاقت کو سخت مقابلہ دیا ہے۔
میجر جنرل اشوک کمار کے مطابق، آذربائیجان جو پہلے دو بار آرمینیا سے ہار چکا تھا، ترکی کے فراہم کردہ ڈرونز کی بدولت جنگ کا پانسہ پلٹنے میں کامیاب رہا۔
اگرچہ انڈین حکومت نے ابھی تک ان معاہدوں کی باضابطہ تفصیلات عام نہیں کی ہیں، لیکن دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ ڈرونز، لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے درمیان ایک اہم کڑی بن چکے ہیں۔ انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی (ISR) اور درست ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری انڈیا کی دفاعی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔