برطانوی مسلمان رہنما گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کیخلاف کھڑا ہوگیا

February 24, 2026 · امت خاص, بام دنیا
فائل فوٹو

لندن:برطانوی مسلمان رہنما گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کیخلاف کھڑا ہوگیا ۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی سیاسی جماعت ‘ریفارم یو کے نے ملک کے مسیحی ورثے کے تحفظ اور گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ایک متنازع لیکن اہم پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

ریفارم یو کے نامزد شیڈو ہوم سیکریٹری ضیا یوسف جو خود ایک باعمل مسلمان ہیں،ایک اہم خطاب میں اس منصوبے کی تفصیلات پیش کیں،اس مجوزہ پالیسی کے تحت برطانیہ کے تمام 40,000 گرجا گھروں کو فوری طور پر ‘لسٹڈ اسٹیٹس’ (تاریخی ورثے کا درجہ) دینے کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ ان کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

نیشنل چرچز ٹرسٹ’ کے مطابق، اس وقت ملک بھر میں تقریباً 3,000 سے 5,000 گرجا گھر ایسے ہیں جو یا تو مستقل بند ہو چکے ہیں یا وہاں پادری موجود نہیں۔ اگرچہ گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کی کوئی سرکاری فہرست موجود نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ایسے کم از کم 40 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

موجودہ قوانین کے تحت عبادت گاہیں ‘F1’ کیٹیگری میں آتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک مذہب کی عبادت گاہ کو دوسرے مذہب کے لیے استعمال کرنے کے لیے کسی خاص منصوبہ بندی کی اجازت (Planning Permission) کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ریفارم پارٹی اس قانون کو بدل کر گرجا گھروں کے لیے ایک الگ کلاس بنانا چاہتی ہے تاکہ ان کی تبدیلیِ مذہب کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ‘چرچ آف انگلینڈ’ پہلے ہی کئی مقامات پر گرجا گھروں کو مساجد میں بدلنے کی مخالفت کر چکا ہے۔ اسٹافورڈ شائر میں ‘سینٹ جان ہینلے’ چرچ کی مثال سامنے ہے، جہاں مقامی کونسل کی منظوری کے باوجود چرچ نے قانونی رکاوٹوں (Covenants) کے ذریعے اس تبدیلی کو روکا۔

ضیا یوسف کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی مسیحی اقدار ملک کے ‘ڈی این اے’ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد سے برطانیہ کا ‘اعلیٰ سماجی اعتماد’ (High-trust society) متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام برطانیہ کی تاریخ اور مسیحی بنیادوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے تاکہ ملک کی اصل شناخت برقرار رہ سکے۔