تل ابیب میں 17 معاہدے،مگر اسٹریٹیجک بریک تھروغائب ۔مودی اورنیتن یاہو کی جعلی ویڈیو موضوعِ بحث
بھارتی وزیراعظم کا دورہ اسرائیل غیرمعمولی اورقابل ذکر پیش رفت کے بغیر ختم ہوگیا۔بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مابین ملاقات کے بعد17معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ جن شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق ہوا ، ان میں مصنوعی ذہانت، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، مینوفیکچرنگ، ثقافت، سمندری ورثہ اور زراعت شامل ہیں۔
بھارتی اخبار داہندوکے مطابق،دونوں ممالک نے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران اے آئی، سائبرسیکیوریٹی، تعلیم اور دیگر شعبوں کے متعدد شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر دستخط کئے۔ اسرائیل میں یو پی آئی کے استعمال کا معاہدہ بھی طے پایا۔
یو پی آئی (UPI)سے مراد Unified Payments Interfaceہے، جو بھارت کا ایک فوری ادائیگیوں کا نظام ہے جسے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے تیار کیا ہے۔ اس کے ذریعے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے کسی بھی وقت ایک بینک اکائونٹ سے دوسرے اکائونٹ میں فوری رقم بھیجی جا سکتی ہے۔
رقم بھیجنے کے لیے اکائونٹ نمبر یا بینک کوڈ (IFSC) کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف ایک UPI ID (مثلا name@bank) یا QRکوڈ کافی ہوتا ہے۔
آپ ایک ہی موبائل ایپ(جیسے Google Pay یا PhonePe)کے ذریعے اپنے مختلف بینک اکائونٹس کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ہر لین دین کے لیے ایک مخصوص UPI PIN ضروری ہوتا ہے، جو اسے محفوظ بناتا ہے۔اب اسرائیل میں موجود بھارتی سیاح، طلبہ اور کاروباری افراد QRکوڈ اسکین کر کے براہ راست اپنے بھارتی بینک اکائونٹ سے ادائیگیاں کر سکیں گے۔
اسرائیل اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے(جیسے متحدہ عرب امارات، فرانس اور سنگاپور)جہاں بھارت کا یہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام کام کرتا ہے۔
دورے سے قبل ،عالمی ذرائع ابلاغ میں تاثر تھاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی بڑے باہمی پیش رفت پر اتفاق متوقع ہے۔ الجزیرہ نے اس بارے میں رپورٹس کے حوالے سے بتایاتھاکہ بھارت اور اسرائیل، دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر سیکورٹی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اتحاد کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
الجزیرہ کا کہناتھاکہ وزیراعظم مودی کے دورے سے قبل، نیتن یاہو نے ایک “چھ فریقی اتحاد” (Hexagon of Alliances)کی تجویز پیش کی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں بھارت، یونان، قبرص اور دیگر غیر اعلانیہ عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد خطے میں ان کے بقول “شدت پسند” شیعہ اور سنی مسلم “محوروں” (Axes)کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہوگا۔مودی نے اس منصوبے کی تصدیق تو نہیں کی لیکن کثیر جہتی منصوبوں پر تعاون پر زور دیا، جن میں انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC)اور I2U2 (جو بھارت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ پر مشتمل ہوگا،شامل ہیں۔
آئی ایم ای سی (IMEC)کا تصور بھارت کو ایک مربوط ریل اور بحری راہداری کے ذریعے مشرق وسطی اور یورپ سے جوڑنا ہے۔ یہ اقتصادی راہداری بھارت، متحدہ عرب امارات، اردن، سعودی عرب، اسرائیل اور یورپ سے گزرے گی۔ اس کا افتتاح ستمبر 2023 میں نئی دہلی میں جی 20سربراہی اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔
نئی دہلی کے تھنک ٹینک ‘آبزرور ریسرچ فانڈیشن’ کے نائب صدر ہرش پنت کا کہنا تھا کہ “IMECان ممالک کو اس طرح سے اکٹھا کرنے کا ایک بہت بڑا اور پرجوش منصوبہ ہے جو کسی زمانے میں ناقابلِ فہم تھا۔ جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں نے I2U2کو “مغربی ایشیا کا کواڈ (West Asian Quad)قرار دیا تھا، جو امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل کواڈریلیٹرل سیکیورٹی ڈائیلاگ کی مناسبت سے ہے۔
ترک میڈیانے ایک رپورٹ میں بتایاتھاکہ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، گزشتہ اتوار کو کابینہ کے ایک اجلاس میں نیتن یاہو نے اس ارادے کا اظہار کیا کہ وہ “مشرق وسطی کے اندر یا اس کے گرد ایک مکمل نظامبنیادی طور پر ایک طرح کا چھ فریقی اتحاد (Hexagon of Alliances)قائم کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے بھارت، یونان، یونانی قبرصی انتظامیہ اور کئی عرب، افریقی اور ایشیائی ملکوں کا ممکنہ شراکت داروں کے طور پر حوالہ دیاتھا ۔
نریندرمودی کا دورہ ء تل ابیب روایتی شعبوں میں تعاون کی مفاہمتوں کے ساتھ اختتام پذیر ہواجس میں کوئی” بریک تھرو”موجودنہیں۔