بریکنگ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد
پاسداران انقلاب نے دباؤ ڈالا، ایرانی میڈیا، انتخاب مجلس خبرگان رہبری کرے گی
مجتبی خامنہ ای
ایران کے ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ امریکی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا اگلا سپریم لیڈر نامزد کردیا گیا ہے۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ یہ نامزدگی ایرانی پاسداران انقلاب کے دباؤ پر ہوئی ہے۔
بعض ایرانی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا کہ مجتبیٰ کو سپریم لیڈر منتخب بھی کر لیا گیا ہے تاہم یہ انتخاب ایران کی مجلس خبرگان رہبری کرتی ہے جسے انگریزی میں assembly of experts کہتے ہیں اور اس کا اجلاس ابھی باقی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ قم میں مجلس خبرگان رھبری کی عمارت کو تباہ کیے جانے کے باعث نئے سپریم لیڈرکا انتخاب آن لائن کیا جا رہا ہے۔ تاہم عرب ٹی وی الجزیرہ کا کہنا ہے کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ مجلس خبرگان رہبری کی پرانی عمارت تھی۔
یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مجتبی خامنہ ای کو منتخب کر لیا تو یہ ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والوں کی فتح ہوگی۔
سپریم لیڈر کے لیے دیگر ممکنہ ناموں میں علی لاریجانی اور علی رضا اعرافی شامل تھے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران میں اس وقت عملی انتظام تین رکنی کونسل کے ہاتھ میں ہے جس میں صدر مسعودپزشیکیان شامل ہیں۔ جب کہ اعرافی تین رکنی نگران کونسل کے سربراہ ہیں۔
ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین تہران میں بڑے تعزیتی اجتماع کے بعد مشہد میں ہوگی۔
تعزیتی اجتماع آج سے جمعے تک امام خمینی ہال تہران میں ہوں گے تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کےدن کا تعین نہیں کیا گیا۔
ایران سے ایک اور خبر یہ آئی ہے کہ سابق صدر احمدی نژاد بھی محفوظ ہیں۔ ان کے گھر پر اسرائیل نے بمباری کی تھی۔