ایران سے اظہاریک جہتی کے لیے جماعت اسلامی نےجمعہ کوملک گیرمظاہروں کا اعلان کردیا
قت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حافظ نعیم کی پریس کانفرنس
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم کی پریس کانفرنس
جماعت اسلامی نے ایران سے اظہار یک جہتی کے لیے جمعہ کو ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ عالمی صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں شدید افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےانہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس دراصل طاقت کو دنیا پر تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ میں جسے چاہوں گا شامل کروں گا جو عالمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف آیت اللہ خامنائی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسے جرات مندانہ مؤقف اپنانا چاہیے۔ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ اُمت اور ملت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے رجیم چینج کی باتوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان بھی ہدف بن سکتا ہےانہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر بورڈ آف پیس سے باہر نکلے۔ وزیراعظم شہباز شریف کھل کر سامنے آئیں اور اپنی غلطی اور کوتاہی پر قوم سے معافی مانگیں۔
کراچی میں امریکی سفارتخانے کے معاملے پر امیرجماعت نے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا اور سندھ حکومت سے جواب طلب کیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ 6 تاریخ کو ملک بھر میں مظاہرے ہوں گے ، جمعہ کے روز بھی پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا۔افغانستان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق تیسری عالمی جنگ کی باتیں خطرناک ہیں اور مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، نہ کہ تصادم میں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مسلم ممالک کو متحد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیوں کا مقابلہ اتحاد اور حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔