’’حالات ہر گھنٹے بگڑ رہے ہیں ‘‘،اقوام متحدہ۔ مذاکرات میں واپسی کا مطالبہ
زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا جائے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے مشرق وسطیٰ کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نےمتحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا جائے کیونکہ خونریزی، تباہی اور مایوسی کے خاتمے کا واحد راستہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔
ہائی کمشنر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لاکھوں لوگوں میں خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کی کیفیت واضح محسوس کی جا سکتی ہے اور موجودہ صورتحال سے گریز ممکن تھا۔ حالات ہر گھنٹے بگڑ رہے ہیں اور بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔ترجمان کے مطابق، ہائی کمشنر نے ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک پرائمری سکول پر دوران تدریس بمباری کے نتیجے میں بیسیوں کمسن طالبات کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی نتائج منظر عام پر لائے جائیں اور متاثرین کے لیے احتساب اور ازالے کو یقینی بنایا جائے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تنازعات میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ ہفتے کو تنازع کے آغاز سے اب تک ایران، اسرائیل اور لبنان میں بچوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لبنان میں سوموار سے اب تک سات بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل راکٹ حملے اور فضائی بمباری بچوں کو فوری خطرے سے دوچار کر رہی ہے، خاندانوں پناہ کے لیے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں سکولوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں خلل آ رہا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ ہر نئی کشیدگی نقصان کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں ہسپتال بھی دباؤ کا شکار ہیں یا حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جو بچے پہلے ہی کئی ماہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں انہیں اب مزید صدمے، خوف اور نقل مکانی کی اذیت کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کاروں نےخبردار کیا ہے کہ اس کے بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ شہریوں، بشمول شہری تنصیبات، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے باعث تشویش ہیں۔ اطلاع کاروں نے فوری جنگ بندی، تحمل سے کام لینے اور بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے جنگوں کا انتخاب نہیں کرتے مگر ان کی سب سے بھاری قیمت وہی چکاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے پراجیکٹ سروسز(یو این او پی ایس) کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے کہا ہے کہ بچے، معمر افراد اور عام خاندان اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ متعدد سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی خدمات کے مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری کی جانب واپسی ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انسانی امداد کی ترسیل کے راستے شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ سلامتی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات، سمندری راستوں میں رکاوٹ اور فضائی حدود بند ہونے سے امدادی سامان کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر سامر عبدالجابر نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں پیش آنے والے مسائل کے باعث نقل و حمل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ادارہ متبادل راستے اختیار کر رہا ہے جن میں ترکیہ، مصر، اردن اور پاکستان کے ذریعے رسائی شامل ہے ، مصر کی بندرگاہیں اور نہرسویز مدد پہنچانے کے کلیدی مراکز کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہسپتالوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام درخواست کریں تو ادارہ ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ڈبلیو ایچ او ترجمان طارق یاساروچ نے کہا ہے کہ ادویات کی فراہمی اور تقسیم کا نظام کام کر رہا ہے۔ شہریوں، طبی عملے اور طبی مراکز کو عسکری کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک لازمی ذمہ داری ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کشیدگی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ بگڑتی صورتحال کا صحت عامہ پر فوری اثر صرف نئی ہلاکتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ علاقائی سطح پر ایسا دھچکا ہے جو علاج معالجے کی فراہمی، سلامتی اور متعدد بحرانوں میں انسانی رسائی کو متاثر کرتا ہے ، مقامی نظام ہائے صحت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔