ایران پر حملے کیلئے بھارتی اڈے استعمال ہونے کا انکشاف
برطانیہ ۔خلیجی ممالک کے عدم تعاون پر دہلی نے امریکہ کو خدمات پیش کیں۔امریکی ماہر۔ تباہ ایرانی جہاز میں بھی بھارت کا کردار مشکوک
واشنگٹن (فارن ڈیسک ) ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں بھارت کی سہولت کاری کا انکشاف ہوا ہے، برطانیہ کی جانب سے ڈیگوگارشیا کا اڈا استعمال کرنے کی اجازت دینے سےانکار کے بعد بھارت نے بحیرہ ہند میں اپنے اڈوں کی خدمات بھارت کو پیش کی ہیں، دوسری جانب امریکی آبدوز کا نشانہ بننے والا ایرانی بحریہ کا سب سےبڑاجہاز’’آئی آر آئی ایس دینا‘‘ بھی بھارت کی دعوت پر مشقوں میں حصہ لینے کیلئے خطے میں موجود تھا اور بھارتی بحریہ جہاز سے مسلسل رابطےمیں تھی، اس لئے قومی امکان ہے کہ یہ جہاز تباہ کرانے میں بھی بھارت نے سہولت کاری کی ہے، یہ جہاز ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔یہ جہاز نور یا قدر اینٹی شپ میزائل، 76 ایم ایم کی فجر 27 نیوی گن، اور 30 ایم ایم کے ہتھیاروں سے لیس تھا۔انڈین بحریہ کی مشرقی کمان نے ایکس پرپوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ تباہ ہونے والا ایرانی جہاز بحری مشق ’آئی آر ایف اینڈ میلان 2026‘ میں حصہ لینے کے لیے پہنچا تھا۔اس دوران امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر اور ریٹائر فوجی افسر ڈگلس میگروگر نے امریکی ٹی وی (OAN) پر انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز ایران پر حملون کیلئے بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے نام لئے بغیر برطانیہ اور خلیجی ممالک کی جانب سے حملے کیلئے اڈے نہ دینے کی طرف اشارہ کیا، اور کہا امریکی بحریہ کو اببھارتی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے”، جو ان کے بقول مثالی صورتِ حال نہیں۔ ان کا کہنا تھا خلیج میں امریکی اڈوں کو خطرات کے باعث امریکہ متبادل لاجسٹک راستے دیکھ رہا ہے۔ تاہم بھارت نے ان کے بیان کو غلط قرار دیا ہے، اور کہا ہےکہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی بحریہ اس کی بندرگاہیں استعمال نہیں کر رہی ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی دفاعی مبصر کے انٹرویو کو بے بنیاد اور من گھڑت تبصرہ قرار دیا۔