آبنائے ہرمز سے جہاز گزار سکتے ہو تو آکر گزارو،ٹرمپ کو ایرانی کمانڈر کا چیلنج

خلیج میں ایران کے قواعد تسلیم کرنا ہوں گے، امریکی جنگی جہاز 800 میل دور رہیں: پاسداران انقلاب کمانڈر

               
March 5, 2026 · بام دنیا

ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک سینئر کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ اب دنیا کو ایران کے بنائے گئے قواعد تسلیم کرنا ہوں گے اور کوئی بھی جنگی جہاز ایران سے 800 میل کے اندر آنے کی جرات نہ کرے۔

پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر ردعمل دیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی بات کی تھی۔ کمانڈر نے ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، “آؤ کو جہازوں کو اپنے تحفظ میں یہاں سے گزار کر دکھاؤ۔”

ایرانی خبر رساں ادارے میزان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ نہ تو اپنی بحریہ کو خلیج میں پھنسے جہازوں کو بچانے کے لیے بھیج سکتے ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ “سمندر میں طاقت کا توازن اب واضح ہو چکا ہے۔”

کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جاری حملوں کے چوتھے دن تک اپنی تمام عسکری صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں۔ ان کے مطابق “اب تک ہم نے صرف میزائل اور ڈرون استعمال کیے ہیں، سمندر میں ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس براہ راست جنگی کارروائی کے “بہت مؤثر منصوبے” موجود ہیں اور امریکیوں کو خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں “اس سے کہیں بڑے واقعات” بھی پیش آ سکتے ہیں۔

ایک اور بیان میں کمانڈر نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کو ان ہوٹلوں تک تلاش کریں گی جہاں وہ قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “وہ کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے” اور امریکیوں کو خلیج کا علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دیا کیونکہ “یہ ہمارا آپریشنل علاقہ ہے۔”

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے نے کمانڈر کا نام ظاہر نہیں کیا۔

پاسداران انقلاب نے 4 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ایرانی بحری افواج کے پاس ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس سے گفتگو کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سیاسی مشیر محمد اکبرزادہ نے کہا کہ “آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر پاسداران انقلاب کی بحری فورس کے کنٹرول میں ہے۔”

اسی دوران پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے مشیر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام جہاز رانی روک سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا وہ جل جائے گا” اور “خطے سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔”