سرِ شام کھانا کھانے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟ماہرین نے اہم وجہ بتا دی
دن کے وقت جسم کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے جبکہ شام کے بعد انسولین کی حساسیت کم ہونے لگتی ہے۔
اگر آپ نے محسوس کیا ہے کہ بہت سے لوگ شام ہوتے ہی رات کا کھانا کھا لیتے ہیں اور پھر کچھ نہیں کھاتے، تو یہ محض عادت نہیں بلکہ صحت سے جڑا ایک اہم فیصلہ ہو سکتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق دن کے وقت جسم کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے جبکہ شام کے بعد انسولین کی حساسیت کم ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کو دیر سے کھایا گیا کھانا جسم میں مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو پاتا، جس کے باعث خون میں شوگر کی سطح زیادہ دیر تک بلند رہ سکتی ہے۔ مسلسل بلند شوگر مستقبل میں انسولین ریزسٹنس اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق دیر سے کھانا کھانا خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جن کا وزن زیادہ ہو، خاندان میں ذیابیطس کی ہسٹری موجود ہو یا جو جسمانی سرگرمی کم رکھتے ہوں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ رات کے وقت بھاری، میٹھی یا زیادہ کیلوریز والی غذائیں شوگر کے اتار چڑھاؤ کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ اسی لیے شام 5 سے 7 بجے کے درمیان کھانا زیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت کھانا میٹابولزم کو بہتر رکھنے، شوگر کو مستحکم کرنے اور غیر ضروری چربی جمع ہونے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق صرف کھانے کا وقت تبدیل کرنے جیسی چھوٹی سی عادت بھی میٹابولک صحت میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے اور بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔