خلیجی ممالک میں تیل تنصیبات پر حملے اسرائیل نے کیے، ایران کا سنسنی خیز الزام
سعودی عرب اور کم از کم عمان میں ہونے والے ایک حملے کے پیچھے اسرائیل ملوث تھا، ترک نشریاتی ادارے سے حکام کی گفتگو
امریکہ کا لوکس ڈرون جو ایران کے شاہد ڈرون سے ملتا جلتا ہے۔۔۔تصویر امریکی محکمہ دفاع
ایران نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں توانائی اور شہری تنصیبات پر ڈرون حملے اس نے نہیں کیے بلکہ یہ کام اسرائیل نے کیا جس کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عرب ممالک کو امریکا۔اسرائیل جنگ میں گھسیٹنا ہے۔
ترک نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ خلیج میں ہونے والے بعض حملے ایران نے نہیں کیے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور کم از کم عمان میں ہونے والے ایک حملے کے پیچھے اسرائیل ملوث تھا، تاہم انہوں نے مخصوص واقعات کی تفصیل نہیں بتائی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کی تنصیبات پر متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں راس تنورہ آئل ریفائنری اور ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اسی طرح عمان کی اہم بندرگاہ دقم پر بھی دو حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں، جہاں 2019 سے امریکی بحریہ کو رسائی حاصل رہی ہے۔
جمعرات کے روز نخچیوان کے ہوائی اڈے کے قریب بھی ایک ڈرون گرنے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دو ایرانی ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے اندر اپنے ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے ذریعے یہ حملے کروائے۔ ایک ذریعے کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں امن اور پڑوسی ممالک کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
ایک اور ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ تہران نے سعودی عرب کو نجی سطح پر آگاہ کر دیا ہے کہ راس تنورہ پر حملے میں ایران ملوث نہیں تھا اور اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
ادھر برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق قبرص میں رائل ایئر فورس کے ایک اڈے کو نشانہ بنانے والا “شاہد طرز” کا ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا، یہ بات برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے بتائی۔
یاد رہے یہ بدھ کو ترکی کی جانب بھی میزائل فائر کیے گئے تھے۔ جمعرات کو ایران نے کہا کہ اس نے ترکی پر میزائل فائر نہیں کیے۔