ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب ہو گیا ، نام نہیں بتایا گیا
مجلسِ خبرگان رہبری کے سیکریٹریٹ کے سربراہ حسینی بوشہری پر منحصر ہے، وہ کب اعلان کرتے ہیں ،عالم الہدیٰ
فائل فوٹو
تہران : ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے والے ادارے مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن احمد عالم الہدیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق عالم الہدیٰ کا کہنا اب سب کچھ مجلسِ خبرگان رہبری کے سیکریٹریٹ کے سربراہ حسینی بوشہری پر ہے، جو فی الحال اس فیصلے کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی دھمکی
اسرائیلی فوج نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اسرائیلی فوج کے فارسی زبان کے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ قم شہر میں ایران کی مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
’ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل نہ صرف ہر جانشین بلکہ ہر اس شخص کا پیچھا کرتا رہے گا جو جانشین مقرر کرنا چاہتا ہے۔‘
’ہم ان تمام لوگوں کو خبردار کرتے ہیں جو جانشین کے انتخاب کے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ یہ ایک انتباہ ہے!‘
ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسے ‘مجلسِ خبرگانِ رہبری’ کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے سے قبل پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔
2024 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفاداروں نے اس کونسل کی تمام نشستیں جیتی تھیں جبکہ چار نشستیں جو ارکان کی موت کے بعد خالی ہو گئی تھیں- جن میں ابراہیم رئیسی بھی شامل ہیں- مئی 2026 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھری جائیں گی۔
اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا اعرافی نائب چیئرمین ہیں۔
ضوابط کے مطابق، مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔