آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا
مجتبی خامنہ ای پاسداران انقلاب کے قریبی ہیں
ایران کی مسلح افواج کی قیادت نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایرانی سرکاری میڈیا نے اعلان کیا کہ نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پیروی کے لیے تیار ہیں۔
ایران کی مجلس خبرگان رہبری نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور ایرانی عوام سے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جانشینی کے معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی۔
ایران میں عوام مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے پر جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے
دوسری جانب اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر موجودہ حساس حالات میں ملک کی قیادت کر سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایرانی مجلس خبرگان نے خطرات اور حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا ہے۔
اپنے بیان میں اسپیکر نے کہا کہ نئے رہنما کی پیروی کرنا سب کے لیے مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔
مجتبی خامنہ ای ایران کی پاسداران انقلاب کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ کچھ روز قبل خبریں آئی تھیں کہ پاسداران انقلاب کے دباؤ پر انہیں سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔
مجتبی خامنہ ای کے علاوہ علی لاریجانی کا نام بھی سپریم لیڈر کے طور پر زیر غور تھا۔