پہلی مکمل پاکستانی ساختہ الیکٹرک گاڑی کی جولائی تک لانچنگ متوقع۔قیمت کتنی ہوگی؟
یک بار چارج کرنے پر 180 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔ روزمرہ کی آمدورفت کے لیے موزوں
ای وی
پاکستان کی پہلی مکمل مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک وہیکل (EV) رواں سال جون یا جولائی تک لانچ کیے جانے کا امکان ہےاس کی قیمت خاصی کم ہوگی۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ(ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حمد علی منصور نے بتایا کہ یہ گاڑی لاہور میں قائم ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ میں تیارکی جائے گی اور یہ مقامی پروڈکشن لائن سے نکلنے والی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک کار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس گاڑی کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رکھی جا رہی ہے تاکہ صارفین، خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو ایک کم لاگت متبادل فراہم کیا جا سکے۔
یہ گاڑی ایک بار چارج کرنے پر 180 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جو اسے روزمرہ کی آمدورفت کے لیے موزوں بناتی ہے۔
حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے اور ملکی آٹو انڈسٹری کی حمایت کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید کمپنیوں نے بھی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
آئندہ آٹو پالیسی کے تحت، حکومت مقامی مینوفیکچررز کو مدد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ملکی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔
حمد علی منصور نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے 100 ارب روپے کی مراعات مختص کی ہیں۔ اس کے علاوہ، الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک رکشوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی پلان پر بھی غور کیا