جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں اسرائیل کی سفید فاسفورس سے گولہ باری ،ہیومن رائٹس واچ
ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال پرانسانی حقوق کی تنظیم کا شدید احتجاج،اسرائیل کو اسلحے کی فروخت معطل کرنے کا مطالبہ
فائل فوٹو
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے رواں ماہ جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سات تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے جن میں یُحمور کے رہائشی قصبے پر سفید فاسفورس گولہ باری اور کم از کم دو گھروں میں آگ لگنے کے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ یہ واقعہ تین مارچ کو پیش آیا۔
ہیومن رائٹس واچ کے محقق رمزی کیس نے کہا کہ ’رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فوج کا سفید فاسفورس استعمال غیر قانونی اور نہایت تشویشناک ہے، جس کے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سفید فاسفورس کے جلانے والے اثرات موت یا ایسے شدید زخم پیدا کر سکتے ہیں جو عمر بھر کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو نے سات تصاویر کی تصدیق اور جغرافیائی محلِ وقوع کی نشاندہی کی ہے جن میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس دکھائی دیتا ہے، اور شہری دفاع کے کارکن گھروں اور ایک گاڑی میں لگی آگ بجھا رہے ہیں۔
سفید فاسفورس آکسیجن کے سامنے آتے ہی جل اٹھتا ہے، اور گھروں، کھیتوں اور شہری تنصیبات کو آگ لگا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق آبادی والے علاقوں میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس کا استعمال اندھا دھند اور غیر قانونی ہے۔
ایچ آر ڈبلیو نے اس سے پہلے بھی 2023 اور 2024 میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے وسیع پیمانے پر سفید فاسفورس کے استعمال کو دستاویزی شکل دی تھی۔
حالیہ جھڑپوں میں لبنان میں 217 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر اس عمل کو روکنا چاہیے اور اس کے اتحادی ممالک۔۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی۔۔ کو فوجی امداد اور اسلحے کی فروخت معطل کرنی چاہیے۔