دوسروں کیلئے آبنائے ہرمز بند لیکن ایران کی اپنی تیل برآمدات جاری
جنگ کے دوران بھی چین کو ایک کروڑ بیرل سے زائد تیل بھیجا گیا، خطے میں سب تک 10 بحری جہازوں پر ایران حملے کر چکا
ایرانی آئل ٹینکر
ایران اور امریکا۔اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہونے کے باوجود ایران اسی راستے سے چین کو بڑی مقدار میں خام تیل بھیج رہا ہے۔ ایران نے دوسروں کیلئے یہ آبی گزر گاہ بند کر رکھی ہے لیکن خود اسے استعمال کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کم از کم 1 کروڑ 17 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیج چکا ہے اور یہ تمام کھیپیں چین کی جانب روانہ ہوئیں۔
جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی TankerTrackers.com کے شریک بانی سمیر مدنی نے بتایا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے ان جہازوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جو اپنی ٹریکنگ بند کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی دھمکیوں کے بعد متعدد آئل ٹینکرز نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے تاکہ ان کی نقل و حرکت ظاہر نہ ہو۔
توانائی مارکیٹ کے ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے Kpler کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بڑا حصہ بالآخر چین تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بیجنگ ہی رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں 10 جہازوں پر حملے
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد اس آبی راستے پر جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے اور بیشتر آئل ٹینکر اس علاقے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب کم از کم 10 جہازوں پر حملے ہوئے جن میں سات ملاح ہلاک ہو گئے۔ اس صورتحال کے بعد بہت سی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز اس راستے سے بھیجنا بند کر دیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو “انتہائی محتاط” رہنا ہوگا۔
ایران کے پاس خارگ کا متبادل ٹرمینل
ایران کا مرکزی تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ طویل عرصے سے ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات سنبھالتا رہا ہے، جہاں سے ٹینکرز آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔
خارگ عراق کے قریب خلیج کے انتہائی اندر ہے۔ یہ ایران کی سب سے بڑی تیل کی تنصیب ہے، اتنی بڑی کہ امریکہ بھی اس پر حملہ نہیں کر رہا کیونکہ یہاں حملہ ہوا تو تیل کی قیمتیں بالکل بے قابو ہو جائیں گی۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں ایران نے خلیج عمان کے ساحل پر واقع جاسک آئل ٹرمینل سے بھی ٹینکر لوڈ کرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
یہ ٹرمینل ایران کا واحد ایسا برآمدی مقام ہے جو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی ٹینکر یہاں سے 20 لاکھ بیرل خام تیل لوڈ کر رہا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹرمینل کی گنجائش محدود ہے اور یہاں ایک بڑے سپر ٹینکر کو بھرنے میں 10 دن تک لگ سکتے ہیں جبکہ خارگ آئی لینڈ پر یہی عمل ایک سے دو دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق جنگ سے پہلے ایران کی تیل برآمدات زیادہ تھیں۔
فروری میں ایران نے تقریباً 21 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ خام تیل برآمد کیا تھا، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح تھی اور یہ تقریباً مکمل طور پر چین کو بھیجا گیا تھا۔
تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی برآمدات کم ہو کر تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہیں۔
چین تیل ذخیرہ کرنے لگا
رپورٹ کے مطابق چین ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے تیزی سے خام تیل کے ذخائر بڑھا رہا ہے۔
چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق سال کے ابتدائی دو مہینوں میں چین کی خام تیل درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.8 فیصد بڑھ گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ یہ ذخائر اس خدشے کے پیش نظر جمع کر رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

اندازوں کے مطابق چین کے پاس اس وقت تقریباً 1 ارب 20 کروڑ بیرل خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے، جو ملک کی طلب کو تین سے چار ماہ تک پورا کرنے کیلئے کافی سمجھا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں اور حالیہ دنوں میں قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی یا اس گزرگاہ میں مزید رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔