امریکی جنرل کا ایرانی سکول حملے میں ممکنہ امریکی کردار کا اعتراف
اس مشق میں استعمال ہونے والے ٹوماہاک میزائل صرف امریکہ کے پاس تھے۔
واشنگٹن: امریکہ کے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر اور یو ایس سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایران کے جنوبی علاقے میناب میں ایک سکول پر ہونے والے حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر امریکہ کا کردار ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے دن ہونے والے اس حملے میں 168 افراد شہید ہوئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے بیان میں جنرل پیٹریاس نے کہا کہ اگرچہ انہیں براہِ راست شواہد نہیں دیکھنے کو ملے، لیکن افسوسناک طور پر شاید ہم ہی ذمہ دار تھے، کیونکہ اس مشق میں استعمال ہونے والے ٹوماہاک میزائل صرف امریکہ کے پاس تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کی عمارت سابق ایرانی بحریہ کے کمپاؤنڈ کا حصہ تھی، اور غالباً پرانا ڈیٹا استعمال ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔
ایرانی حکام نے پہلے اس حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل پر لگایا تھا، جبکہ دونوں ممالک نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سابق صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد ایران پر الزامات عائد کیے تھے۔