سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ قاتلانہ حملے میں بال برابر فاصلے سے بچ گئے

حملہ آور پستول سمیت ان کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور فائر بھی کیا

               
March 12, 2026 · بام دنیا

سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ

 

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔موجود ہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ بدھ کی شام ایک شادی کی تقریب کے دوران کیا گیا جہاں نائب وزیر اعلی سریندر چودھری بھی ان کے ساتھ تھے اور وہ دونوں  بال بال بچے۔

 

اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے فاروق عبداللہ کے بیٹے اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی شیئر کیا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص پستول تھامے فاروق عبداللہ کے قریب آتا دکھائی دے رہا ہے۔اس کے فوراً بعد فاروق عبداللہ کے سکیورٹی اہلکار اور وہاں موجود لوگ حملہ آور کو قابو کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے جموں و کشمیر پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش پولیس نے ناکام بنا دی ۔

 

اخبار ’’ کشمیرعظمیٰ‘‘ کے مطابق ، یہ حملہ محض ایک بال برابرفاصلے سے ناکام ہوا، حملہ آور پستول سمیت ان کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور فائر بھی کیا لیکن گولی کسی کونہ لگی۔

 

فاروق عبداللہ کے بیٹے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد بال بال بچ گئے۔ عمر عبداللہ نے سوال اٹھایاکہ زیڈ سیکیورٹی اور این ایس جی کی سخت حفاظتی پرت کے باوجود ایک شخص پستول کے ساتھ فاروق عبداللہ کے نزدیک کیسے پہنچا۔قریبی سیکیورٹی ٹیم کی مداخلت نے گولی کے رخ کو موڑا اور حملہ ناکام ہوا۔ عمرعبداللہ کے مطابق، ابھی بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملے خاص طورپر یہ کہ ایک زیڈپلس پروٹیکشن والے سابق وزیراعلیٰ تک اتنی آسانی سے حملہ آور کیسے پہنچ گیا۔

 

وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر کی طرف سے شیئرکی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دکھائی دیتاہے کہ حملہ آور فاروق عبداللہ پرپستول تان کر فائر کرتاہے ۔فوٹیج میں سیکیورٹی اہل کاروں کوچندہی لمحوں میں حملہ آور پرجھپٹتے اور اسے قابومیں کرتے دیکھاجاسکتاہے۔

 

پولیس کی طرف سے واقعے کی اعلی سطح تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔