بریکنگ ایران کے نئے سپریم لیڈر کا پہلا خطاب بدلہ لینے اور آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان
امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی، دشمنوں سے ہرجانہ وصول کریں گے، مجتبیٰ خامنہ ای
مجتبیٰ خامنہ ای کا خطاب سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش دشمن پر دباؤ ڈالنے کا مؤثر ہتھیار ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اگر امریکی فوجی اڈے بند نہ کیے گئے تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور دشمنوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا خطاب سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔
یہ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا عوامی بیان ہے۔ انہیں 9 مارچ کو ایران کا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای فروری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایک حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ایرانی عوام سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں سے ہرجانہ وصول کرے گا “یا پھر ان کے اثاثوں کو اسی کے مطابق تباہ کر دے گا۔”
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ یمن میں موجود مزاحمتی قوتیں بھی “اپنا کردار ادا کریں گی”، جبکہ عراق میں موجود مسلح گروہ بھی اسلامی انقلاب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حملوں کے باوجود ملک کو زیرِ اثر آنے یا تقسیم ہونے سے بچایا۔
انہوں نے کہا، “میں ان بہادر جنگجوؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اس وقت بہترین کام کر رہے ہیں جب ہمارا ملک دباؤ اور حملوں کی زد میں ہے۔”
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
امریکی میڈیا میں ایرانی سپریم لیڈر کے خطاب میں خصوصی دلچسپی لی گئی۔