ایران کے لیے’’نوکوارٹر‘‘۔ امریکی وزیردفاع کے بیان پر تنقید کیوں ہورہی ہے؟

س کا سادہ مطلب یہ ہے کہ جنگ کے دوران مخالف سپاہیوں کو زندہ گرفتار نہیں کیا جائے گا

               
March 14, 2026 · امت خاص

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

 

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اس بیان پرانسانی حقوق گروپس نے تنقید کی ہے جس میں انہوں نے کہاتھاکہ ایران پرکوئی رحم نہیں(No Quarter) کیا جائے گا۔ہیگستھ نےنامہ نگارو ں سے گفتگوکے دوران کہاتھا کہ ہم دباؤ برقرار رکھیں گے۔ ہم (اپنی کارروائی) جاری رکھیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے۔ ہمارے دشمنوں کے لیے نہ کوئی پناہ (No quarter) ہے اور نہ کوئی رحم۔

 

اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ امریکی فوج پسپائی اختیار نہیں کرے گی اور دشمن کو ہتھیار ڈالنے کا موقع دیے بغیر مکمل طور پر ختم کرنے کی پالیسی اپنائے گی۔

 

جنگ کے تناظر میںنو کوارٹر ایک انتہائی سخت اور خوفناک اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے کہ دشمن کو پناہ نہیں دی جائے گی، یاکوئی رعایت نہیں ملے گی۔اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ جنگ کے دوران مخالف سپاہیوں کو زندہ گرفتار نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان سب کو قتل کر دیا جائے گا۔ اگر دشمن ہتھیار ڈال کر خود کو حوالے یعنی سرینڈرکرنا چاہے، تب بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور اسے مار دیا جائے گا۔

 

ماضی میں جب کوئی فوج کسی شہر یا قلعے کا محاصرہ کرتی تھی، تو’’No Quarter‘‘ کا اعلان کرنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اگر دشمن نے فوری طور پر ہار نہ مانی، تو فتح کے بعد کسی کی جان نہیں بخشی جائے گی، خواہ وہ عام شہری ہوں یا فوجی۔جدید دور میں جنیوا کنونشن (Geneva Convention) کے تحت ایسا حکم دینا یا اس کی دھمکی دینا ایک جنگی جرم ہے۔ عالمی قانون کے مطابق اگر کوئی دشمن ہتھیار ڈال دے یا زخمی ہو کر لڑنے کے قابل نہ رہے، تو اسے تحفظ فراہم کرنا لازمی ہے۔

 

پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) کے بیان’No mercy for our enemies(دشمنوں کے لیے کوئی رحم نہیں) کے تناظر میں نوکوارٹرکا مطلب ایسی جنگ ہے جہاں صرف مکمل خاتمہ مقصود ہو اور قیدی بنانے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

 

ہیگ کنونشن (Hague Convention) اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت، اس بات کی دھمکی دینا غیر قانونی ہے کہ کسی کو پناہ نہیں دی جائے گی۔مقامی قوانین، جیسے کہ 1996 کا وار کرائمز ایکٹ (War Crimes Act)، بھی ایسی پالیسیوں کی ممانعت کرتے ہیں۔ اسی طرح، امریکی فوجی کتابچے (Military Manuals) بھی خبردار کرتے ہیں کہ نو کوارٹرکی دھمکیاں دینا غیر قانونی ہے۔

 

تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینئر مشیر برائن فینوکین کا کہنا ہے کہ ہیگستھ کے یہ بیانات بین الاقوامی معیارکی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔

فینوکین نےبتایاکہ یہ تبصرے انتہائی حیران کن ہیں۔ اس سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا یہ جارحانہ اور قانون سے عاری بیان بازی میدانِ جنگ میں لڑنے کے طریقے میں بھی تبدیل ہو رہی ہے یا نہیں۔تاہم، ہیگستھ نے عوامی سطح پر بین الاقوامی قانون سے متعلق خدشات کو مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیوقوفانہ ضابطہِ اخلاق اور سیاسی طور پر درست جنگ کی تھیوری کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ’’نو کوارٹر‘‘ کا اعلان کرنے پر پابندی کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے، جو جنگ کے دوران انسانی رویوں پر حدود قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد نیورمبرگ ٹرائلز (Nuremberg trials) میں اس قانونی معیار کو برقرار رکھا گیا تھا، جہاں نازی عہدیداروں پر بعض صورتوں میں دشمن افواج کو پناہ نہ دینے کے لیے مقدمہ چلایا گیا تھا۔

 

ماہرین کے مطابق بنیادی تصور یہ ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے افراد کو قتل کرنا غیر انسانی بھی ہے اور (جنگی مقصد کے لیے) نقصان دہ بھی۔کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے نو کوارٹرکا محض اعلان کرنا ہی بذاتِ خود ایک جنگی جرم قرار پاتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر ہلاکت خیزی پر زور دینے کی پینٹاگون کی پالیسیاں، ایران کے خلاف اس کی جنگ میں بھی منتقل ہو چکی ہیں۔4 مارچ کو ایک بریفنگ کے دوران ہیگستھ نے کہا تھاکہ سارا دن آسمان سے موت اور تباہی برستی رہے گی۔ ہم یہ جنگ جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہمارے جنگجوؤں کو صدر اور میری طرف سے ذاتی طور پر مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے جنگی ضوابط جرات مندانہ اور قطعی ہیں، جنہیں امریکی طاقت کو بیڑیاں پہنانے کے بجائے اسے مکمل طور پر آزاد کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

 

ہیومن رائٹس واچ کی واشنگٹن ڈائریکٹر سارہ یگر نے اس قسم کی بیان بازی کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میں دو دہائیوں سے امریکی فوج کے ساتھ رابطے میں ہوں، اور میں اس زبان (الفاظ) پر حیران ہوں۔ اعلیٰ قیادت کی بیان بازی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اس ماحول کو تشکیل دیتی ہے جس میں امریکی افواج کام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظالم کی روک تھام کے نکتہ نظر سے، ایسی زبان جو قانونی پابندیوں کو مسترد کرے، ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔

 

اگرچہ جنگی کارروائیوں پر ہیگستھ کی بیان بازی کے اثرات ابھی یقینی نہیں، لیکن واچ ڈاگ گروپ ایئر وارز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی رفتار جدید تاریخ کی دیگر فوجی کارروائیوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

 

رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ نے جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی تقریباً5اعشاریہ 6 ارب ڈالر مالیت کا گولہ بارود گرایا۔ ایئر وارز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں اتنے اہداف کو نشانہ بنایا جتنے داعش کے خلاف امریکی مہم کے پہلے چھ مہینوں میں نشانہ بنائے گئے تھے۔

 

ہیگستھ کے ریمارکس کے بعد، سینیٹر جیف مرکلے نے پینٹاگون سربراہ کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک خطرناک اناڑیdangerous amateur) قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی اسکول پرحملے کو ان کے بیانات کے نتائج کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔مرکلے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھاکہ ان کے بےجھجھک جنگی طریقوں نے ایک سویلین اسکول اور فوجی ہدف کے درمیان فرق کرنے میں ناکامی کی بنیاد رکھی۔