سوشل میڈیا پر طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی ہلاکت کی افواہیں
طالبان کے امیر کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
فائل فوٹو
سوشل میڈیا پر طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی پاکستانی حملے میں ہلاکت کی افواہیں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔افغانستان کی مزاحمتی تنظیم این آر ایف سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی ایک کارروائی کرے دوران طالبان کے امیر کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو فیک نیوز قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ پاکستانی فوج کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغانستان کی مزاحمتی تنظیم این آر ایف سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے دوران طالبان کے امیر کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد یا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔سرکاری اور معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی جس میں ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ دفاعی اور سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر مصدقہ معلومات اکثر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا یا معلوماتی جنگ کے طور پر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام میں کنفیوژن پیدا کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس وقت تک ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت سے متعلق کوئی مستند یا تصدیق شدہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں من گھڑت اور گمراہ کن قرار دی جا رہی ہیں۔