ٹرمپ روپڑے۔اپنے جنگی نقصانات ڈس انفارمیشن قرار،امریکی میڈیاپر بھی الزامات
یہ سب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی خبریں ہیں۔سوشل میڈیا پوسٹ میں بیان
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں نقصانات کو میڈیا کی پھیلائی ہوئی ڈس انفارمیشن قراردیاہے۔
ایک طویل سوشل میڈیاپوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ایران میڈیا ہیرا پھیری اور تعلقاتِ عامہ (PR) کا ماہر سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہ عسکری طور پر غیر مؤثر اور کمزور ہیں، لیکن فیک نیوز میڈیا کو جھوٹی معلومات فراہم کرنے میں بہت ماہر ہیں۔ اب، مصنوعی ذہانت اور ڈس انفارمیشن کے ہتھیار کو ایران کافی مہارت سے استعمال کر رہا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ روز بروز تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بحیرہ عرب میں مختلف بحری جہازوں پر گولیاں برساتے ہوئے فرضی کامی کازی بوٹس(خودکش کشتیاں) دکھائیں، جو دیکھنے میں شاندار، طاقتور اور خوفناک لگتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کشتیوں کا کوئی وجود نہیں۔ یہ سب محض جھوٹی معلومات ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ان کی شکست خوردہ فوج کتنی سخت ہے!۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیاکو بھی جھوٹ بولنے میں ملوث قراردیتے ہوئے کہا کہ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر اداروں کی جھوٹی رپورٹنگ کے مطابق امریکہ کے جن پانچ ری فیولنگ طیاروں (تیل بھرنے والے جہازوں) کو مبینہ طور پر تبا ہ کیا گیا یا شدید نقصان پہنچایا گیا تھا، وہ سب کے سب سروس میں موجود ہیں، سوائے ایک، وہ بھی جلد ہی دوبارہ پرواز کرے گا۔ وہ عمارتیں اور بحری جہاز جنہیں آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا ہے، اصل میں ایسا کچھ نہیں ،یہ سب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی خبریں ہیں۔مثال کے طور پر، ایران نے فیک نیوز میڈیا کے ساتھ مل کر ہمارے عظیم الشان طیارہ بردار بحری جہازیو ایس ایس ابراہم لنکن کو سمندر میں بے قابو آگ کی لپیٹ میں دکھایا، جو دنیا کے سب سے بڑے اور معتبر بحری جہازوں میں سے ایک ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس میں آگ نہیں لگی تھی، بلکہ اس پر حملہ تک نہیں کیا گیا۔ایران بہتر جانتا ہے کہ ایسی غلطی نہ کرے! یہ کہانی جان بوجھ کر بنائی گئی ایک جعلی کہانی تھی، اور ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ میڈیا ہاؤسز جنہوں نے اسے پھیلایا، ان پر جھوٹی معلومات کی تشہیر پر غداری کے الزامات عائد ہونے چاہئیں!
امریکی صدر کامزید کہناہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران تباہ ہو رہا ہے، اور وہ صرف وہی جنگیں جیت رہا ہے جو اس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کی ہیں اور جنہیں کرپٹ میڈیا اداروں نے پھیلایا ہے۔ بائیں بازو کا انتہا پسند پریس یہ بات اچھی طرح جانتا ہے، لیکن پھر بھی جھوٹی کہانیوں اور جھوٹ کو آگے بڑھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ریٹنگ اتنی کم ہے، اور میں صرف 5 فیصد مثبت کوریج کے باوجود صدارتی انتخاب بھاری اکثریت سے جیت سکتا ہوں،ان کی کوئی ساکھ نہیں بچی!
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ مجھے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کے چیئرمین برینڈن کار کو ان کرپٹ اور انتہائی غیر محب وطن میڈیااداروں کے لائسنسوں کا جائزہ لیتے دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ ادارے اربوں ڈالر کی مفت امریکی ایئر ویوز (نشریاتی لہریں) حاصل کرتے ہیں اور انہیں خبروں اور اپنے تقریباً تمام شوز میں جھوٹ پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، بشمول ان لیٹ نائٹ مورونز (رات کے احمقانہ شوز کے میزبانوں) کے جنہیں بدترین ریٹنگز کے باوجود بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں اور انہیں کبھی فائر (برطرف) نہیں کیا جاتا، جیسا کہ میں دی اپرنٹس میں کہا کرتا تھا۔