معلوم نہیں تھا ایران اتنی شدت سے ردعمل دے سکتا ہےٹرمپ
جب امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے
واشنگٹن/تہران ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کی گئی شدید جوابی کارروائی سے امریکہ مکمل طور پر حیران رہ گیا۔
صحافی کے سوال پر کہ آیا کسی نے انہیں پہلے سے نہیں بتایا کہ ایران اتنی شدت سے ردعمل دے سکتا ہے، ٹرمپ نے بار بار انکار کرتے ہوئے کہا:
“نہیں، کسی نے نہیں بتایا۔ کوئی نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔ سب سے بڑے ماہرین بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔
صحافی کا سوال اور سپر پاور کے صدر کا جواب ۔۔۔۔سنئیے زرا ۔۔۔ صحافی ۔۔۔آپ نے کہا کہ کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی اور ایران کے ان ممالک پر حملے نے ہمیں حیران کر دیا۔ کیا کسی نے آپ کو پہلے نہیں بتایا تھا کہ ایران کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور یہ اتنا شدید ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ: نہیں،… pic.twitter.com/KrWOD3SoB2
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) March 17, 2026
اگرچہ معتبر ذرائع جیسے ریٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران خلیجی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ “کوئی ماہر بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ ایران اتنی وسیع پیمانے پر جواب دے گا” اور ایران کی “زبردست طاقت” کا اعتراف کیا۔
خطے کی صورتحال نازک ہے، ایران نے خلیج فارس میں بحری ٹریفک متاثر کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر ممالک نے اپنے دفاعی نظام کو فعال کر رکھا ہے اور متعدد میزائل اور ڈرونز کو روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ ہارمز آبنائے کی حفاظت میں مدد کریں، لیکن بعض ممالک اس سے گریز کر رہے ہیں۔
اس بیان کو عالمی سطح پر اسٹریٹجک غلطی اور انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، اور صورتحال کشیدہ رہنے کے باعث مزید تصادم کا خطرہ برقرار ہے۔
بین الاقوامی نیوز چینلز اور سرکاری بیانات پر نگرانی جاری ہے تاکہ خطے کی تازہ صورتحال کی مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔