متحدہ قومی موومنٹ کاسیاسی جماعتوں سے 28 ویں ترمیم لانے کا مطالبہ
جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حکومت اور پاک افواج نےنمایاں کردار ادا کیا ہے
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں نے 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر لانے اور آرٹیکل 140 اے کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چیرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے مصطفیٰ کمال، امین الحق، انیس قائم خانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس جنگ کا پچھلے تیس چالیس سال سے کہا جارہا تھا وہ جنگ ہمارے دروازے پر پہنچ چکی ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حکومت اور پاک افواج نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آرٹیکل 140 اے کو اٹھارویں ترمیم کے بعد جرم سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی اس میں شریک ہیں، 28ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام قومیتوں اور زبانیں بولنے والوں کے لیے متحد ہونے کا وقت آ چکا ہے، کیونکہ دشمن براہ راست میدان جنگ میں شکست نہ دے سکے تو سازشوں کے ذریعے انتشار پیدا کرتا ہے، کراچی دشمن کے لیے سب سے آسان ہدف بن سکتا ہے اور یہ شہر پاکستان کی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو موجودہ حالات میں نظر انداز کر کے ملک کے استحکام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، جبکہ ہر بحران سے نمٹنے کے لیے قوم کو تیار رہنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے جس عزم کا اظہار کر رہا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے پاک افواج دفاع کر سکتی ہیں، قوموں پر مسلط جنگ فوج نہیں پوری قوم لڑتی ہے، جنگ زدہ علاقوں میں دیکھا ہے ایسے حالات میں اقتدار کو عوام کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ووٹ لینے والوں کا نہیں ووٹ دینے والوں کا بھی حق ہوتا ہے، پاکستان میں موروثی سیاست اور خاندانی اقتدار اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، ہم منتظر تھے اٹھائیسویں ترمیم میں پاکستان کی عوام کو خوشخبری دی جاتی اقتدار میں بھی آپ کا حصہ ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں ہمارا ایک چیئرمین اور ایک کونسلر نہیں ہے، جنگ سرحد پار کر کے ملک میں داخل ہوتی ہے تو پہلے سے انتظام رکھنا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی بحران سے متعلق اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لاک ڈاؤن کی باتیں ہو رہی ہیں شہریوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے کیا اقدامات ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ہم اپنے حصے کا اختیار عوام کو دینا چاہتے ہیں، ایک مختصر سی اقلیت جاگیر دارانہ مزاج کی وجہ سے اختیارات کی منتقلی کو روکا جا رہا ہے۔
اس موقع پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو اپنی دہلیز پر فیصلے کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے اور پاکستان میں مؤثر و بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنا ہوگا، جاگیردارانہ جمہوریت کا خاتمہ اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کراچی سٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات دیے بغیر کسی میئر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ملک کے 144 اضلاع اور شہروں کو خودمختار اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہنا تھا کہ ملک کو درپیش ہر بحران سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ضروری ہے، پاکستان کی عوام ہی جمہوریت اور ملک کو بچا سکتی ہے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ انہیں مشاورت کے لیے بلایا جائے اور ملک کی موجودہ صورتحال پر واضح حکمت عملی اختیار کی جائے۔