ملک بھر میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ
خواتین سائلین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے گا،چیف جسٹس کی زیر صدارت قانون و انصاف کمیشن کا اجلاس
فائل فوٹو
اسلام آباد: ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قانون و انصاف کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قانون و انصاف کمیشن کا اجلاس ہوا۔
قانون و انصاف کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خواتین سہولت مراکز کے ڈیزائن کے لیے قومی سطح پر مقابلہ کروایا جائے گا۔ اجلاس میں قومی ڈیزائن مقابلے کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔ خواتین سہولت مراکز میں رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ خواتین کو ایک ہی جگہ متعدد سہولیات فراہم کرنے کی تجویز بھی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو انفراسٹرکچر میپنگ کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری اعلامیہ کے مطابق خواتین سائلین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے گا، ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز میں قانونی معاونت اور میڈی ایشن کی سہولت ہوگی۔ سینٹرز میں عدالت سے منسلک مصالحت اور خاندانی ملاقاتوں کے انتظامات بھی شامل ہیں۔ سینٹرز میں تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے خصوصی سپورٹ سروسز فراہم کی جائیں گی۔
اعلامیہ کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان جلد قومی مقابلہ شروع کرے گا، ڈیزائن کے انتخاب کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے شفافیت اور میرٹ پر مبنی لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی۔ منتخب ڈیزائن ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کے لیے ماڈل قرار دیا جائے گا۔