ایران نے ایک ہی دن میں امریکہ کے 2 طیارے کہاں گرائے، 2 ہیلی کاپٹرز بھی نشانہ
ایک پائلٹ کی گرفتاری کا شبہ, مذاکرات میں سودے بازی کیلئے استعمال کیے جانے کا امکان
ایف 15 اور اے 10 طیارے
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں جمعہ اس وقت ڈرامائی شدت آگئی جب ایرانی فضائی دفاعی نظام نے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو جدید امریکی جنگی طیارے مار گرائے۔ امریکی میڈیا رپورٹوں میں ان طیاروں کے گرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان واقعات میں ایک F-15E اور ایک A-10 وارتھوگ (Warthog) طیارہ تباہ ہوا ہے، جبکہ لاپتہ پائلٹ کی تلاش اور ممکنہ گرفتاری نے واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی نشانہ بنایا جو تباہ طیاروں کے پائلٹوں کو تلاش کر رہے تھے۔
ایرانی فوج کے ‘خاتم الانبیاء’ سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان کے مطابق، پہلی کارروائی ایران کے جنوب مغربی صوبے کہگیلویہ و بویر احمد میں کی گئی جہاں امریکی فضائیہ کا ایک F-15E طیارہ ایرانی دفاعی نظام کا نشانہ بن کر تباہ ہوا۔
ایرانی اور روسی ذرائع ابلاغ نے شروع میں اس طیارے کو ایف 35 قرار دیا۔
دوسرا واقعہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جہاں زمینی مدد فراہم کرنے والا امریکی A-10 وارتھوگ طیارہ مار گرایا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے حال ہی میں متعارف کرایا گیا نیا دفاعی نظام استعمال کیا ہے جو ریڈار کی نظروں سے بچنے والے طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایف 15 طیارے کا پائلٹ ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم اس کا کو-پائلٹ لاپتہ ہے۔ اے 10 طیارے کا ایک ہی پائلٹ تھا جسے بچا لیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے مقامی آبادی کو الرٹ جاری کیا ہے کہ وہ لاپتہ پائلٹس کی تلاش میں مدد کریں، جبکہ صوبائی گورنر نے پائلٹ کو پکڑنے والے کے لیے خصوصی انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔
امریکہ کیلئے تشویش کا باعث ایف 15 طیارے کا لاپتہ پائلٹ ہے جس کے ایران کے ہاتھ لگنے کا شبہ ہے۔ امکان ہے کہ اگر کوئی پائلٹ ایرانی فورسز کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو تہران اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایک مضبوط ‘بارگیننگ چپ’ (سودے بازی کے مہرے) کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بھی ممکن ہے کہ ایران پائلٹ کے پکڑے جانے کا اعلان نہیں کرے گا۔
امریکہ نے ایف 15 کے صرف ایک پائلٹ کو بازیاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یعنی دوسرے کا ابھی کچھ معلوم نہیں۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لاپتہ اہلکاروں کی تلاش کے لیے بھیجے گئے دو بلیک ہاک (Black Hawk) ہیلی کاپٹروں پر بھی ایرانی دفاعی نظام نے فائرنگ کی۔ اگرچہ ان ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان نہیں پہنچا اور وہ اپنا آپریشن جاری رکھنے میں کامیاب رہے، لیکن اس سے ایران کے جارحانہ موڈ کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایران نے ان میں سے ایک ہیلی کاپٹر مار کرانے کا دعوی کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو معمول کے مطابق فلوریڈا میں ہفتہ وار چھٹی گزارنے والے تھے، ان واقعات کے بعد واشنگٹن میں ہی موجود ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے طیارے گرنے کی تصدیق کی لیکن مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: “نہیں، اس سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا۔ یہ جنگ ہے، اور ہم جنگ کی حالت میں ہیں۔”
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے آغاز میں ایران کے فضائی دفاع کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن ان طیاروں کا گرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایسے موبائل یا جدید دفاعی نظام موجود ہیں جو امریکی فضائی برتری کو چیلنج کر سکتے ہیں۔