امریکی فوجی سربراہ کی برطرفی کے بعد ایران میں خطرناک آپریشن کا خدشہ
جنرل رینڈی وائٹ ہاؤس کو 'ناں' کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی
جنرل رینڈی
امریکی فوج کے سربراہ (آرمی چیف آف اسٹاف) جنرل رینڈی جارج کی اچانک برطرفی اور ان کی جگہ ایک جونیئر پس منظر رکھنے والے افسر کی تعیناتی محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی بساط پر ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہوتی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کے سربراہ (آرمی چیف آف اسٹاف) جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے اچانک برطرف کر دیا۔ یہ غیر معمولی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ خطے میں گذشتہ دو دہائیوں کے سب سے بڑے اور حساس ترین جنگی آپریشنز میں مصروف ہے۔
ذرائع کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی برطرفی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم دفاعی ماہرین اسے آنے والے دنوں میں کسی بڑی فوجی مہم جوئی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس برطرفی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ جنرل جارج کی جگہ جنرل کرسٹوفر لا نیو کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے، جو اس سے قبل وزیرِ دفاع کے سینئر ملٹری ایڈ (معاون) کے طور پر کام کر رہے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک پیشہ ور جنگی جنرل کو ہٹا کر اپنے ہی سابقہ معاون کو فوج کی کمان سونپنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وائٹ ہاؤس اور جنگی احکامات کے درمیان کوئی ایسی آواز باقی نہیں رہی جو سیاسی فیصلوں پر پیشہ ورانہ اختلاف کر سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کے عین وسط میں، جب کہ فوجیں محاذوں پر تعینات ہوں اور بارود کی بو فضاؤں میں پھیلی ہو، کسی بھی ملک کی عسکری قیادت کو بغیر کسی ٹھوس وجہ، اخلاقی کوتاہی یا آپریشنل ناکامی کے گھر نہیں بھیجا جاتا۔ جنرل رینڈی جارج کی رخصتی اس وقت ہوئی ہے جب امریکی بحریہ کے جہاز سمندروں میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور ایلیٹ فورسز مشرقِ وسطیٰ کے اہم ترین اڈوں پر کسی بڑے حکم کی منتظر ہیں۔ اس برطرفی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پینٹاگون کے اندر پیشہ ورانہ تجربے اور جنگی مصلحتوں پر سیاسی وفاداری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
امریکہ کیلئے اس غیر معمولی واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو وہ خلا ہے جو جنرل جارج کے جانے سے پیدا ہوا ہے۔ ایک فور اسٹار جنرل کا عہدہ صرف ایک عہدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ صدر کے ارادے اور میدانِ جنگ میں سپاہی کی جان کے درمیان ایک فلٹر کا کام کرتا ہے۔ جب وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک فون کال کے ذریعے جنرل جارج کا کیریئر ختم کیا، تو درحقیقت انہوں نے اس رکاوٹ کو ہٹا دیا جو کسی بھی ممکنہ غیر منطقی یا حد سے زیادہ جارحانہ فیصلے کے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی۔ ان کی جگہ جنرل کرسٹوفر لا نیو کی تعیناتی، جو کہ وزیرِ دفاع کے قریبی معاون رہ چکے ہیں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب کمان کی زنجیر (Chain of Command) کو مختصر کر کے براہِ راست سیاسی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔ اب وائٹ ہاؤس اور جنگی احکامات کے درمیان کوئی ایسا تجربہ کار جرنیل موجود نہیں جو ممکنہ تباہی کے پیشِ نظر “نا” کہنے کی جرات کر سکے۔
اس تبدیلی کے پیچھے چھپے مقاصد کا سراغ ان مقامات سے ملتا ہے جہاں اس وقت امریکی فوج کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ایران کی معیشت کی شہ رگ، خارج جزیرہ، اور ایرانی ساحلوں کے قریب امریکی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی ایسا بڑا آپریشن متوقع ہے جس پر شاید سبکدوش ہونے والے جنرل کو تحفظات تھے۔ جب کسی بحران کے دوران وضاحت دیے بغیر اعلیٰ ترین افسر کو ہٹایا جائے، تو اس کی وضاحت وہ “آنے والا بحران” خود ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے ایک ایسے نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے جہاں وہ کسی بھی قسم کی عسکری مخالفت یا پیشہ ورانہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال عالمی امن کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ایک سابق ٹی وی میزبان کا جنگی تجربہ رکھنے والے جنرل کو فارغ کر کے اپنے سابق معاون کو فوج کی کمان سونپنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب فیصلے میدانِ جنگ کی ضرورتوں کے بجائے سیاسی بیانیے اور جارحانہ حکمتِ عملی کے تحت ہوں گے۔ یہ اقدام نہ صرف امریکی فوج کے اندرونی نظم و ضبط کو متاثر کرے گا بلکہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتا ہے جس کی زد میں پورا خطہ آ جائے گا۔ جب کمان کی زنجیر میں اعتراض کرنے والے ختم ہو جائیں، تو جنگیں اپنے دائرے توڑ کر بے قابو ہو جایا کرتی ہیں، اور موجودہ صورتحال اسی خطرناک سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔