ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بے ہوشی میں ہونے کا دعویٰ

برطانوی اخبار ٹائمز نے امریکی اور انٹیلی جنس کے حوالےسے رپورٹ دی، عرب سوشل میڈیا پر پھیل گئی

               

مجتبی خامنہ ای

برطانوی اخبار ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بے ہوشی کی حالت میں قم میں زیر علاج ہیں اور شدید بیماری کے باعث حکومتی فیصلوں میں حصہ لینے کے قابل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک سفارتی میمو پر مبنی ہیں جو مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت تشویشناک ہے اور وہ کسی بھی سطح پر فیصلہ سازی میں شامل نہیں ہو پا رہے۔

ٹائمز کے مطابق اس میمو میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاری قم میں کی جا رہی ہے، جو شیعہ اسلام کے مقدس ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی خفیہ ادارے کافی عرصے سے مجتبیٰ خامنہ ای کے مقام سے آگاہ تھے، تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے، البتہ ان کے نام سے بیانات جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

ٹائمز کی یہ رپورٹ عرب ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں پھیل گئی ہے۔ العربیہ ٹی وی نے بھی اسے نشر کیا ہے۔