ایران کی 3 سال بعد 2 فرانسیسی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت
سیسیل کوہلر اور جیکس پیرس کو مئی 2022 میں ایران کے دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
فائل فوٹو
پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے 3 سال سے زائد عرصے سے زیرِ حراست 2 فرانسیسی شہریوں، سیسیل کوہلر اور جیکس پیرس کو رہا کر کے ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر میکرون نے بتایا کہ سیسیل کوہلر اور جیکس پیرس اب آزاد ہیں اور فرانس واپسی کے لیے اپنے سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کی رہائی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر سلطنتِ عمان کے حکام کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، دونوں شہریوں کو گزشتہ سال کے آخر میں جیل سے رہا کر دیا گیا تھا، تاہم انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس دوران وہ تہران میں فرانسیسی سفارتی احاطے میں مقیم تھے۔ اب ایرانی حکام کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
فرانسیسی صدر نے اس رہائی کو دونوں خاندانوں اور فرانس کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا ہے۔
سیسیل کوہلر اور جیکس پیرس کو مئی 2022 میں ایران کے دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام نے ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں ان کے اہل خانہ اور فرانسیسی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ فرانس نے اس گرفتاری کو “غیر منصفانہ اور بلا جواز” قرار دیتے ہوئے اسے ‘ریاستی یرغمالی’ کا نام دیا تھا۔