عالمی برادری کی طرف سے امریکا-ایران جنگ بندی کا خیرمقدم
یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اردن،برطانیہ،ماسکو/انقرہ/ریاض/کوالالمپور/پیرس/اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان عالمی سطح پر خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کی کامیاب ثالثی کو سراہا جا رہا ہے۔
روس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے قائم ہوں گے۔ کریملن کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ روسی حکام نے مزید کہا کہ امریکا کو اب یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مزید وقت اور گنجائش میسر ہوگی۔
ترکی نے بھی جنگ بندی معاہدے کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی مکمل حمایت کرے گا۔ ترک وزارت خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی شرائط کی پابندی کریں اور جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جانا چاہیے اور امید ہے کہ یہ جنگ بندی جامع اور پائیدار امن کی طرف راہ ہموار کرے گی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے جو ایران کے علاوہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔
فرانسیسی صدر نے خطے میں جنگ بندی کی شرائط کے مکمل احترام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ امریکا-ایران جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے، تاہم لبنان میں صورتحال اب بھی تشویشناک ہے اور امریکا-ایران معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ادھر اٹلی کے سابق وزیر اعظم پاؤلو جینٹی لونی نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگ بندی کے لیے کی گئی کوششیں پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اور اس کامیابی کے پیش نظر نوبیل انعام کے مستحق ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریاٹ نے پاکستان کی خاموش اور مؤثر سفارتی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ ہائی کمشنر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا پاکستان کا شکریہ، آپ نے اس اہم جنگ بندی میں خاموش اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا۔