امریکا سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مذاکرات بے سود ہیں،باقر قالیباف
اصولوں اور شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حیثیت باقی نہیں رہی۔
باقر قالیباف نے امریکا پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں سیز فائر یا کسی قسم کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
ان کے مطابق امریکا لبنان سیز فائر، ڈرون حملوں اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے متعلق طے شدہ نکات کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصولوں اور شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حیثیت باقی نہیں رہی۔ قالیباف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
دوسری جانب جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دینے اور لینے کے اصول پر ہوں گے اور ایران کو جو فائدہ ملے گا اسے جواب میں دینا بھی ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر متوازن سودے بازی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
امریکی نائب صدر نے باقر قالیباف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات واضح ہونا مثبت پیش رفت ہے اور اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ بصورت دیگر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دوبارہ جنگی حکمت عملی اختیار کرنے کا آپشن موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی اور معاہدوں کی خلاف ورزی خطے میں سیاسی و سکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے، اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے فریقین کا تعاون لازمی ہے۔