شمالی کوریا کا خطرناک ترین میزائل کا تجربہ

مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں متعدد میزائل داغے گئے، اور یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے۔

               
April 9, 2026 · بام دنیا

شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے کیے گئے ہتھیاروں کے تجربات میں مختلف نئے نظام شامل تھے، جن میں کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد حریف ملک جنوبی کوریا کے خلاف جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنا بتایا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ ایک روز بعد جاری ہوئی۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق، مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں متعدد میزائل داغے گئے، اور یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے۔

تجربات میں فضائی دفاعی ہتھیار، مبینہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) نظام اور کاربن فائبر بموں کے مظاہرے بھی شامل تھے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائل 240 سے 700 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔ منگل کو پیانگ یانگ کے قریب کم از کم ایک اور میزائل لانچ کیے جانے کی اطلاع بھی ملی۔

جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بدھ کو داغے گئے کسی بھی ہتھیار نے اس کے خصوصی اقتصادی زون کی حدود میں داخل نہیں ہوا۔ امریکی فوج کے مطابق، منگل اور بدھ کے روز شمالی کوریا کے یہ تجربات امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔