امریکہ نے روسی تیل خریدنے کی چھوٹ میں توسیع کردی
تقریباً 100 ملین بیرل روسی خام تیل عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتا ہے
امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی توانائی خلل کے باعث تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے ممالک کو روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی دی گئی چھوٹ میں تقریباً ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔
امریکی محمکہ خزانہ کے مطابق یہ اجازت اُن تیل کی خریداری پر لاگو ہوگی جو جمعہ تک جہازوں پر لوڈ کیا جا چکا ہے، اور اس کی مدت 16 مئی تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ چھوٹ 11 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔
روس کے صدارتی ایلچی نے کہا تھا کہ ابتدائی چھوٹ کے نتیجے میں تقریباً 100 ملین بیرل روسی خام تیل عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتا ہے، جو دنیا کی یومیہ پیداوار کے قریب ایک دن کے برابر ہے۔
تاہم اس فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق اس فیصلے کو توانائی کی عالمی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں حالیہ تنازعات کے بعد بڑھی ہیں۔
تاہم لائسنس کے متن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس استثنیٰ میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا سے متعلق لین دین شامل نہیں ہے، یعنی ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں برقرار ہیں۔