کیا بھارت شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کی راہ پرچل پڑا ہے؟
131ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے مستردکردیا
بھارت میں لوک سبھا نے 131ویں آئینی ترمیم کو مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہ ملنے کے باعث مسترد کر دیا، جس کے بعد حکومت کو ایک غیر معمولی سیاسی دھچکا لگا۔ ایوان میں 528 ارکان کی موجودگی میں 298 ووٹ بل کے حق میں اور 230 مخالفت میں پڑے، ترمیم کے لیے درکار تقریباً 352 ووٹ حاصل نہ ہو سکے۔ اس ناکامی کے فوراً بعد مرکزی وزیر کرن رجیجو نے Delimitation بل 2026 اور یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیم) بل 2026 بھی واپس لے لیے، کیونکہ یہ تینوں قانون سازی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔
بھارتی آئین میں ترمیمی بل کے مندرجات نے تاثر پیداکیاہے کہ بی جے پی شمالی ریاستوں کاپارلیمانی توازن اپنے حق میں کرناچاہتی ہے ۔
اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کی، اگرچہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے اصولی طور پر حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خواتین کے کوٹے کو حدبندیوں کے ساتھ جوڑ کر ایک سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس طرح شمالی ریاستوں جیسے اتر پردیش اور بہار کو زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں، جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔ اندازوں کے مطابق نئی حد بندی کے بعد کچھ جنوبی ریاستوں کی نشستیں کم اور شمالی ریاستوں کی زیادہ ہو جاتیں، جس سے پارلیمانی توازن تبدیل ہو سکتا تھا۔
اپوزیشن نے یہ بھی اعتراض کیا کہ جاری مردم شماری کے باوجود 2011 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنا غیر مناسب ہے اور اس سے وفاقی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے درمیان طاقت کا توازن بدل جاتا۔اس کے باعث مشترکہ اجلاس کی صورت میں لوک سبھا کا اثر و رسوخ بڑھ جاتا اور راجیہ سبھا کی نسبتاً حیثیت کم ہو جاتی۔
قائد حزب اختلاف ، کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اس اقدام کو آئینی ہیرا پھیری قرار دیا۔
ترمیمی بل ایک وسیع آئینی پیکج کا حصہ تھا، جس کا مقصد نہ صرف لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی ساخت میں بڑی تبدیلیاں لانا تھا بلکہ انتخابی حلقہ بندی، نمائندگی کے تناسب اور خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا تھا۔ بل کے تحت لوک سبھا کی نشستیں موجودہ 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جن میں 815 نشستیں ریاستوں اور 35 یونین ٹیریٹریز کے لیے مختص ہونی تھیں۔ اسی طرز پر ریاستی اسمبلیوں میں بھی نشستوں میں اضافہ متوقع تھا، تاکہ آبادی میں اضافے کے مطابق نمائندگی کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔
مجوزہ ترمیم کا ایک اہم مقصد خواتین کے لیے ایک تہائی یعنی 33 فیصد نشستوں کا ریزرویشن نافذ کرنا بھی تھا۔ یہ دراصل 2023 میں منظور ہونے والے ناری شکتی وندن ادھینیم (خواتین ریزرویشن ایکٹ) میں ترمیم کی کوشش تھی، جسے مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حلقہ بندیوں سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ اس شرط کے باعث اس قانون کا نفاذ مؤخر ہو چکا تھا۔ نیا بل اس تاخیر کو ختم کر کے خواتین کے کوٹے کو 2029 کے عام انتخابات تک نافذ کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔
اس وقت بھارت میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے، لوک سبھا میں تقریباً 14 فیصد، راجیہ سبھا میں 17 فیصد اور ریاستی اسمبلیوں میں اوسطاً 10 فیصد خواتین موجود ہیں، جس کی وجہ سے 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ طویل عرصے سے جاری ہے۔
حکومت نے اس قانون سازی کے حق میں یہ دلیل دی کہ 1971 کی مردم شماری کے بعد سے آبادی میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں، اس لیے نئی حلقہ بندی ناگزیر ہے۔ بل میں آئین کے آرٹیکل 82 میں ترمیم کر کے یہ شرط ختم کرنے کی تجویز تھی کہ delimitation صرف اگلی مردم شماری کے بعد ہی ہو سکتی ہے، اور پارلیمنٹ کو اختیار دیا جا رہا تھا کہ وہ سادہ اکثریت سے فیصلہ کرے کہ حلقہ بندی کب اور کس مردم شماری کی بنیاد پر کی جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 334A میں تبدیلی کے ذریعے خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
Delimitation بل 2026 کے تحت ایک نئے کمیشن کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جج کے پاس ہوتی، چیف الیکشن کمشنر اور متعلقہ ریاستی الیکشن کمشنرز اس کے ارکان ہوتے۔ یہ کمیشن 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کرتا، نشستوں کی دوبارہ تقسیم کرتا، اور شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائبز اور خواتین کے لیے ریزرویشن کا تعین کرتا، جو گردش کے اصول کے تحت نافذ ہوتا۔
اسی پیکج کا ایک اہم اور حساس پہلو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (PoK) سے متعلق بھی تھا، جسے اکثر خبروں میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مجوزہ Delimitation بل 2026 میں نیاقانونی فریم ورک شامل تھا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھارت کے کنٹرول میں آتا ہے تو وہاں بھی انتخابی حلقہ بندی کی جا سکے گی۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اختیار دیا جانا تھا کہ وہ ایسی صورت میں Delimitation کمیشن کے طور پر کام کرے اور ان علاقوں میں حلقہ بندی اور نمائندگی کا نظام قائم کرے۔
یہ شق دراصل موجودہ آئینی اور سیاسی پوزیشن کا تسلسل تھی، کیونکہ جموں و کشمیر اسمبلی میں پہلے ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیے 24 نشستیں مختص ہیں، جو خالی رکھی جاتی ہیں اور ان پر کبھی انتخابات نہیں ہوئے۔ ہر نئی حد بندی کے باوجود یہ نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں، جو بھارت کے اس دعوے کی علامت ہیں کہ پورا جموں و کشمیر اس کا حصہ ہے۔
بھارت اس دعوے کو 1947 کے Instrument of Accession پر مبنی قرار دیتا ہے، جس کے تحت مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کے ساتھ ملایا تھا۔ 1994 میں بھارتی پارلیمنٹ نے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی تھی، جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ان علاقوں کو خالی کرے۔ حالیہ قانون سازی میں اس مؤقف کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ماہرین کاکہناہے کہ نریندرمودی بھارت کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کی طرف لے جارہے ہیں۔
پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد حکومت کو نہ صرف ترمیم بلکہ اس سے جڑے دیگر اہم بلز بھی واپس لینے پڑے۔