’’ڈیل‘‘کرنے پر کتاب لکھنے والے ٹرمپ ایران سے مذاکرات میں کون سااصول نظراندازکر رہے ہیں؟
امریکی صدر کی مشہور ترین کتاب ’’دی آرٹ آف دی ڈیل‘‘ ، 1987میں شائع ہوئی تھی
تصویر: وکی پیڈیا
صدرٹرمپ نے اپنی کاروباری کتاب’’دی آرٹ آف دی ڈیل‘‘کی ہر چال استعمال کرلی ہے تاکہ اس کش مکش میں فائدہ اٹھائیں،اختتامی مراحل کو گھماتےرہیں اور ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں۔لیکن آن لائن پوسٹس کے 24 گھنٹے سیلاب میں اور ان رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے جو ان کے فون پر اسپیڈ ڈائل پر ہیں، وہ ایک بڑے قاعدے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
’’دی آرٹ آف دی ڈیل‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشہور ترین کتاب ہے۔ یہ 1987 میں شائع ہوئی تھی اور ٹونی شوارٹز نے( بطور گھوسٹ رائٹر) اسے لکھاتھا۔ خود نوشت اور کاروباری مشوروں کا امتزاج یہ کتاب ٹرمپ کے ابتدائی کاروباری کیریئر پر مبنی ہے، خاص طور پر نیویارک میں ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے بڑے پروجیکٹس جیسے ٹرمپ ٹاور، گرینڈحیات ہوٹل، وول مین رنک وغیرہ اور دیگر ڈیلز کا ذکر ہے۔ اس نے ٹرمپ کو ایک مشہور ’’ڈیل میکر‘‘کے طور پر دنیا بھر میں متعارف کرایا۔
کتاب میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ ڈیل کرنا ان کا فن ہے، وہ پیسے کے لیے نہیں بلکہ ڈیل کرنے کا لطف اٹھاتے ہیں۔اس میں وہ اپنے کاروباری فلسفے کو سادہ اور سیدھے طریقے سے بیان کرتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے امن بات چیت کے لیے اپنے آپ کے ساتھ دن گزارے ہیں، کسی ڈیل میں سب سے بری چیز یہ ہے کہ آپ اسے کرنے کے لیے بے چین نظر آئیں،” ٹرمپ نے 1987 کی اس کتاب میں لکھا تھا۔
امریکی صدر ممکنہ طور پر پاکستان میں بات چیت سے پہلے اسی جال میں پھنسنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔وہ ایک ڈیل کے امکان کے بارے میں بات کرنا نہیں روک سکتے۔ لیکن چونکہ وہ ایران کے رہنماؤں کے ساتھ میز پر نہیں بیٹھے، اس لیے وہ امکانات کو مزید خراب کر رہے ہوں گے۔
پچھلے ہفتے ، انہوں نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ معاملہ پہلے ہی ہو چکا ہے، دعویٰ کیا تھاکہ جوہری ذخائر حوالے کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے سمیت ایران نے تمام امریکی مطالبات پر اتفاق کر لیا ہے۔لیکن جب تہران نے انکار کیا تو’’بہت سارے بم‘‘بھیجنے کی دھمکیوں نے انہیں ڈیل کے لیے مزید بے چین دکھایا۔
اکثر اوقات، جیسے آبنائے ہرمز کے معاملے میں، ٹرمپ کے بیانات ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ وہ واضح طور پر سچ نہیں ہوتے۔ متضاد معلومات کا سلسلہ یہ تاثر بھی مضبوط کرتا ہے کہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں اور وہ بس چل رہے ہیں جو جنگ کے دوران غیر ملکی پالیسی کے ماہرین کی طرف سے مسلسل تنقید کا نشانہ رہا ہے۔
ٹرمپ کی بے چینی اور مسلسل عوامی بیانات کی وجہ سے وہ ایران والوں کے سامنے بے نقاب ہوگئے، ایرانی طرف مکمل خاموشی اور رازداری میں کام کر رہی ہے۔ اس امرنے مذاکرات میں ٹرمپ کو کمزور پوزیشن میں ڈال دیاہے کیونکہ وہ ’’دی آرٹ آف دی ڈیل‘‘ کے اپنے ہی اصول (بے چینی نہ دکھانا) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
صدور عام طور پر اہم بات چیت سے پہلے اس طرح کا رویہ نہیں اپناتے۔ رونالڈ ریگن نے سوویت رہنما میخائل گورباچوف کے ساتھ سربراہی اجلاسوں کی تیاری سوویت یونین کے ساتھ ٹی وی نیٹ ورکس پر معاہدوں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں کی تھی جب وہ ملے بھی نہیں تھے۔
تو ٹرمپ اس طرح کیوں برتاؤ کر رہے ہیں؟ اور کیا کہانی کو مسلسل چلانے کی ان کی ضرورت بات چیت کو خراب کرنے کا خطرہ بن رہی ہے؟
ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں دیکھاتھا کہ ایک سادہ ٹویٹ میڈیا کو بائی پاس کر کے انہیں پوری دنیا سے بات کرنے کی غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔ اس لیے صدر ہر شہری کے ہاتھ میں موجود چھوٹے آلے کو ناقابل یقین طاقت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں پوری دنیا سے بات کرنے کے لیے نیوز کانفرنس بلانے کی ضرورت نہیں۔ وہ بس پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ شاید پہلی جنگ ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے فضائی حملوں کے نتائج کا اعلان کیا، ایرانی تہذیب کو “مرنے” کی وارننگ دی اور امن(جنگ بندی) کا اعلان بھی آن لائن کیا۔
سوشل میڈیا اور ٹرمپ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔ انہوں نے اسے استعمال کر کے امریکہ کے قومی نفسیاتی منظر پر قبضہ جمایاہواہے اور وہ اسے دن رات بے تحاثہ استعمال کرتے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کر سکتے ہیں لیکن ہر ٹروتھ سوشل پوسٹ فوراً عالمی میڈیا کے ذریعے منتقل ہو جائے گی۔
“دی آرٹ آف دی ڈیل” میں ایک ایسا شخص جو ہمیشہ ایکشن کے مرکز میں رہنا چاہتا ہے، یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسے ڈیل کرنے کی جستجو زیادہ پسند ہے بجائے اس کے کہ ڈیل میں کیا ہے۔اور ٹرمپ کے لیے سفارت کاری کوئی پس پردہ سرگوشی جیساعمل نہیں ۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے سربراہی اجلاسوں سے زیادہ کچھ نہیں نکلا، لیکن انہوں نے ٹرمپ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے پچھلے سال ان کا شاندار استقبال لڑاکا طیاروں اور ریڈ کارپٹ کا تماشایوکرین جنگ ختم کرنے میں ناکام رہا۔ لیکن یہ ایک زبردست فوٹوبنوانے کا موقع ضرور تھا۔
مشیر خبردار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی پوسٹس بات چیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔لیکن معاہدہ اب بھی دور کی بات ہے ،خاص طور پر حالیہ تناؤ کے بعد۔ایسی بات چیت میں جو کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہو گی بھی۔
ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کے باوجود، ایران کے پاس بھی اس مقابلے میں بڑی لیورج ہے۔ آبنائے ہرمزسے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہ ددے کراس نے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور وہ آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔اور دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد گہرا اور نقصان دہ ہے۔
ٹرمپ کی سوشل میڈیاسرگرمیاں شاید صورتحال کو صرف مزید خراب کر رہی ہیں۔صدر کے کچھ اہلکاروں نے نجی طور پر تسلیم کیا کہ ان کے عوامی تبصرے بات چیت کے لیے نقصان دہ رہے ہیں۔ صدر کے پچھلے ہفتے کے غیرحقیقی دعووں کہ ایران نے تقریباً تمام امریکی مطالبات پر اتفاق کر لیا ہے، بشمول افزودہ یورینیم حوالے کرنے کی بات کوایرانی مذاکرات کاروں نے پسند نہیں کیا۔
ٹرمپ اپنی ہی خواہشات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، اس تاثر کو ایک وال سٹریٹ جرنل آرٹیکل نے بھی اٹھایا۔ اخبار نے کہا کہ انہیں ایک ایسے کمرے سے دور رکھا گیا جہاں مشیر ایک ایرانی میں پھنسے امریکی ایئرمین کے لیے ریسکیو آپریشن کی اپ ڈیٹس لے رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بے صبری مددگار نہیں ہوگی۔
امن مذاکرات، خاص طور پر افزودگی، سنٹری فیوجز اور نگرانی جیسے پیچیدہ مسائل پر، بہت حساس ہوتے ہیں۔ ان میں اکثر پس پردہ چینلز اور مہینوں یا برسوں کی بات چیت درکار ہوتی ہے۔ ہر فریق کو لگنا چاہیے کہ اس نے فتح حاصل کر لی ہے تاکہ لائن عبور کر سکے۔
دھمکیاں شاذ و نادر ہی کام کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر شور مچانا اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ ٹرمپ نے پیر کے روز کہاتھا کہ وہ ایران کے ساتھ اس ہفتے ختم ہونے والے سیز فائر کو بڑھانے کا امکان نہیں رکھتے۔ یہ شاید دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی، لیکن اس نے ایرانی فریق کو نہ آنے کا بہانہ بھی دے دیا۔ پھر بھی، ٹرمپ کےتیزی سے بدلتے سوشل میڈیا ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، وہ اگلی پوسٹ میں بالکل الٹا بھی کہہ سکتے ہیں۔
ایرانی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر غالیباف بھی ٹرمپ کے طریقوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے صدر پر الزام لگایا کہ وہ “اس مذاکراتی میز کو اپنی دانست میںہتھیار ڈالنے کی میز میں بدلنا یا دوبارہ جنگ کا جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اگر “دی آرٹ آف دی ڈیل” کام کر گئی اور کسی طرح ٹرمپ نے دنیا کے لیے ایرانی خطرے کو ختم کر دیا، تو یہ ایک ایسی جیت ہوگی جو جدید دورمیں کسی دوسرےصدر نے حاصل نہیں کی۔ ایک بات یقینی ہے،اورہاں یہ بات وہ دنیا کو سب سے پہلے خود بتائیں گے۔