ایران کے قریب امریکی بحری طاقت میں اضافہ۔ تیسرا بحری بیڑہ تعینات
یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش، جنگی جہاز جمعرات کو ایران کے قریب پہنچ گئے
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کے قریب سمندری حدود میں اپنا تیسرا بحری بیڑہ تعینات کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز جمعرات کو ایران کے قریب پہنچ گئے۔ اس پیش رفت کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کرے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور جاری کشیدگی کا خاتمہ کرے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس بحری بیڑے میں ہزاروں اضافی امریکی اہلکار اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ یہ بحری جہاز اس سے قبل افریقہ کے مشرقی ساحل کے قریب سفر کر رہا تھا اور جمعرات کو بحرِ ہند میں موجود تھا۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتوں میں مزید چار ہزار سے زائد امریکی فوجی بھی مشرقِ وسطیٰ پہنچنے والے ہیں، جو باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور اس کے ساتھ تعینات میرین یونٹ کا حصہ ہوں گے۔
یہ واضح نہیں کہ نئے آنے والے طیارہ بردار جہاز کو کیا ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، تاہم صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو وہ دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، باوجود اس کے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ نازک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں ہیں اور وقت ایران کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ اسی وقت ہوگا جب وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دو دیگر طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہام لنکن، پہلے ہی خطے میں موجود ہیں، اور تیسرے جہاز کی آمد سے امریکی فضائی دفاع اور طویل فاصلے تک حملے کی صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔