غزہ فلوٹیلا پر اسرائیلی قبضے کے خلاف عالمی ردعمل۔کئی ملکوں کی شدید مذمت
ترکیہ نے “سمندری قزاقی”قرار دے دیا، یورپی رہنماؤں کی جانب سے بھی سخت بیانات
تصویر: سوشل میڈیا
غزہ جانے والے فلوٹیلا پر اسرائیل کی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مقبوضہ فلسطین کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی بحری بیڑے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں کو اسرائیلی افواج نے بحیرہ روم میں روک کر ان پر کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کی جانب گامزن اس بیڑے میں شامل کل 58 جہازوں میں سے 21 کو روک لیا گیا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو“سمندری قزاقی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
اطالوی سیاستدان آرتورو اسکوٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ سے تقریباً 700 میل دور کشتیوں کو روکا، اور یہ کارروائی تشدد اور بین الاقوامی قانون کی توہین سے بھرپور تھی۔
یونان کے سابق وزیر خزانہ یانس واروفاکس نے اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یونانی حکومت یا تو اس معاملے میں شریک ہے یا پھر اپنے سمندری حدود کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اسپین کی پوڈیموس پارٹی کی رہنما ایونے بیلارا نے اس کارروائی کو ایک اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ایک دن اس کی قیمت چکانی پڑے گی، انہوں نے اسپین اور یورپی کمیشن سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔