خطے میں بدامنی کی ذمے دار ’امریکی کٹھ پتلی ریاستیں‘ ہیں: ایرانی سپریم لیڈر
ان میں اتنی سکت اور صلاحیت بھی نہیں کہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں ،ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ
فائل فوٹو
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو علاقائی بدامنی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس کی سرزمین پر امریکیوں کی موجودگی اور ان کے ٹھکانے خطے میں عدم استحکام کا سب سے بڑا عنصر ہیں۔
انہوں نے ان اڈوں کو “امریکی کٹھ پتلی اڈے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں اتنی سکت اور صلاحیت بھی نہیں کہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں، چہ جائیکہ خطے کے دیگر ممالک ان سے سیکورٹی کی امید وابستہ کریں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق امریکہ پر بھروسہ کرنے والے اور اس پر انحصار کرنے والے ممالک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ واشنگٹن انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی اور میزائل صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ان کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی عوام اپنے ملک کی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کو “قومی اثاثہ” سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان صلاحیتوں کی حفاظت بالکل اسی طرح کی جائے گی جیسے ملک کی آبی، زمینی اور فضائی سرحدوں کا دفاع کیا جاتا ہے۔
مجتبی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا باب تحریر کیا جا رہا ہے۔
یوم خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس خطے کے روشن مستقبل میں ’امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا‘ اور یہ کہ آبنائے ہرمز کے ’نئے نظام‘ پر عملدرآمد سے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ’خلیج فارس میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ یہاں امریکی موجودگی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی اڈے نہ تو خود کی اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی رہبر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکہ سے پاک ہو گا۔‘
مجتبی خامنہ نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر ’خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور دشمن کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے استحصال کو ختم کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے ’نئے نظم و انتظام‘ کے قانونی قواعد اور ان کا نفاذ خطے کی تمام اقوام کے لیے آسائش اور ترقی لے کر آئیں گے۔