لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 39 افراد شہید ہوئے۔ وزارت صحت
اسرائیلی حملے میں ’ایک شامی شہری اور اس کی 12 سالہ بیٹی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق شدید اسرائیلی حملوں کے ایک اور دن میں 39 افراد شید ہو گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق جنوبی قصبے سکسکیہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم سات افراد شہد ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہے اور وہ ’غیر متعلقہ شہریوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سے آگاہ‘ ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا کہ نبطیہ میں ایک موٹرسائیکل پر اسرائیلی حملے میں ’ایک شامی شہری اور اس کی 12 سالہ بیٹی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق وہ پہلے حملے کی جگہ سے ہٹنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن ڈرون نے دوسری بار حملہ کیا جس میں والد ہلاک ہوئے، اس کے بعد ڈرون نے تیسری بار ’براہ راست‘ لڑکی کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ لڑکی کی جان بچانے کے لیے سرجری کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ڈرون حملہ کیا جس میں اسرائیلی فوج کے مطابق تین فوجی زخمی ہوئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم وزارتِ صحت ان میں جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں کرتی۔
اسرائیلی فوج لبنان کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک پٹی پر بھی قابض ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ سے پاک ایک سکیورٹی زون بنانا ہے تاکہ اسرائیل کے شمالی علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اسرائیل کے زیادہ تر فضائی حملے جنوبی لبنان میں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ سے منسلک انفراسٹرکچر اور افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔
سنیچر کے روز لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی جن میں سکسکیہ بھی شامل ہے۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک لڑکی شامل ہے اور 15 افراد زخمی ہوئے جن میں تین بچے شامل ہیں۔
تاہم آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے علاقے میں ’فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈھانچے کے اندر سرگرم حزب اللہ کے جنگجوؤں‘ کو نشانہ بنایا۔
فوج کے بیان کے مطابق حملے سے قبل شہریوں کو نقصان کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے جن میں درست نشانہ بنانے والا اسلحہ اور فضائی نگرانی شامل تھی۔