راولپنڈی میں سراج محسود اور زین شاہ کا قتل، سوشل میڈیا دعوے کتنے سچے

اب تک سامنے آنے والی تصدیق شدہ معلومات کیا ہیں، انتظامیہ نے ترنول میں وہ پلازے سیل کردیئے جہاں جرگہ ہوا

May 11, 2026 · |

سراج محسود (دائیں) اور زین شاہ (بائیں)

راولپنڈی میں لین دین کے تنازعے پر نوجوان سراج محسود اور اس کے مخالف زین شاہ کے قتل کے بعد ترنول میں غیرقانونی جرگہ منعقد کرنے پر پولیس حرکت میں آگئی، جہاں جرگہ منعقد ہوا وہاں دکانوں اور پلازوں کو سیل کردیا گیا۔ یہ واقعہ اصل میں کیا ہے اور سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کی بنیاد کیا ہے، امت ڈیجٹل حقائق سامنے لے آیا۔

8 مئی کو دوپہر ڈیرھ بجے چکری روڈ پر واقعہ پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والے اس المناک واقعے پر اتوار کو شہر کے دوسرے حصے ترنول میں ایک جرگہ منعقد ہوا تھا اور بظٓاہر اس پورے معاملے کو لسانی رنگ دیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں حقائق معلوم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اس واقعے کی ایف آئی آر تھانہ دھمیال میں درج ہے جو دو میں سے ایک مقتول سراج محسود کے بھائی محمد شریف نے درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق سراج کی پیر مہر علی شاہ ٹاون میں کریانہ کی دکان ہے جہاں زین شاہ اور سراج کے درمیان لین دین پر تلخ کلامی ہوئی۔ شریف محسود نے ایف آئی آر میں لکھویاا کہ ان کے بھائی سراج، شاہ حسین اور ارشاد اور دو کزن ناصر اور عدنان دیگر دوستوں کے ساتھ زین شاہ سے گلہ کرنے گئے۔
جب یہ لوگ زین شاہ کے یہاں پہنچے تو وہاں زین کے ساتھ عون چوہدری اور دیگر دو نامعلوم افراد موجود تھے۔ یہاں پر ایک بار پھر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ ایف آئی آر کے مطابق اس دوران عون چوہدری نے پستول سے سراج پر فائر کیا جو اسے سینے میں لگا اور وہ چل بسا۔

یہاں سے آگے کا واقعہ پولیس ذرائع کی زبانی سامنے آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سراج کے قتل کے بعد مقتول کے ساتھیوں نے زین شاہ کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی، پولیس ذرائع کے مطابق زین شاہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتول کے جسم پر تشدد کے سینکڑوں نشانات کی تصدیق ہوئی، جب کہ لاش کی بے حرمتی اور لاش کو گھسیٹنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ زین شاہ کے قتل کی ایف آئی آر کہاں ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زین شاہ کے لواحقین کے بیانات لے لیے گئے ہیں اور انہیں کیس کا حصہ بنایا گیا ہے تاہم الگ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق ایسے معاملات میں جس فریق کا بندہ پہلے قتل ہوتا ہے اس کی ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور دوسری پارٹی کا کراس ورژن اسی میں شامل کیا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مقتول زین شاہ پر تشدد کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین شامل تھیں، تاہم یہ بھی کہا کہ سراج کی میت گزشتہ رات لواحقین نے وصول کرلی جب کہ خواتین کو رہا کردیا گیا۔

پولیس ذرائع سے بس یہی تصدیق شدہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کیے گئے دیگر دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوتی۔

ترنول میں وہ پلازے سیل کردیئے گئے جن کے سامنے جرگہ ہوا تھا

واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں خواتین دکھائی دیتی ہیں اور اسی دوران سفید لباس میں موجود ایک شخص دوسرے شخص پر فائرنگ کردیتا ہے اور پھر بھاگ جاتا ہے۔ تاہم اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ خواتین دوپٹوں اور شلوار قمیص میں ہیں، کوئی برقع نہیں۔ ان کا حلیہ سوشل میڈیا کے ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا کہ سراج محسود کے گھر کی خواتین نے مردوں کے ساتھ مل کر زین شاہ کےگھر پر حملہ کیا۔ البتہ سراج محسود کے بھائی کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر سے یہ واضح ہے کہ سراج، اس کے بھائی اور کزن دیگر لوگوں کے ساتھ زین شاہ کے گھر کی طرف گئے تھے۔ اس طرح سوشل میڈیا کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ پہلے زین شاہ نے سراج کی دکان پر جا کر اسے قتل کیا۔

زین شاہ کے لواحقین کی جانب سے کوئی شخص ذرائع ابلاغ کے سامنے نہیں آیا۔

جن دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ان میں وجہ تنازعہ بننے والی رقم کی مالیت بھی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ یہ صرف 1300 روپے کا جھگڑا تھا، بعد میں سوشل میڈیا پر لاکھوں روپے کا دعویٰ سامنے آیا۔ سراج محسود کے بھائی کی درج کرائی گئی ایف آئی آر میں رقم واضح نہیں کی گئی۔

زین شاہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کوئی نقل سامنے نہیں آئی۔

جمعہ کو پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد اتوار کو اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں قبائیلی اضلاع کے افراد کا ایک جرگہ منعقد ہوا۔

جن پلازوں کے سامنے یہ جرگہ ہوا پیر کے روز دو بجے اسلام آباد انتظامیہ نے وہ پلازے سیل کردئے اور 4 افراد کو بھی گرفتار بھی کرلیا۔ سرکاری طور پر پلازے سیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری کیلئے مقتول زین شاہ پر تشدد کرنے والے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے گی۔