صدر ٹرمپ نے آج قومی سلامتی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ ااہم فیصلے متوقع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی “انتہائی کمزور” ہے اور انہوں نے تہران کی تازہ امن تجویز کو “ردی کا ٹکڑا” قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کی پیشکش کو مکمل طور پر نہیں پڑھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنا وقت ایسی چیز پڑھنے میں ضائع نہیں کریں گے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج قومی سلامتی میٹنگ طلب کرلی۔ امریکی میڈیا کے مطابق میٹنگ میں ایران کیخلاف جنگ پھر سے شروع کرنے پر غور کیا جائےگا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلیف اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے شرکت کرنےکا امکان ہے۔
خبرایجنسی نے 2 اہلکاروں کے حوالےسے دعوی کیا کہ صدر ٹرمپ کسی قسم کے فوجی ایکشن کی جانب مائل ہو رہے ہیں تاکہ ایران پر دباو بڑھایا جائے اور نیوکلیئر پروگرام پر رعایتیں حاصل کی جائیں۔