امریکہ میں فراڈ پر بھارتی تاجر اڈانی گروپ 18ملین ڈالر جرمانہ بھرنے کو تیار

امریکی ریگولیٹر سے معاہدے کے تحت 18 ملین ڈالر جرمانہ ادا ہوگا

May 15, 2026 · امت خاص, بام دنیا

گوتم اڈانی، اڈانی گروپ کے چیئرمین، دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے امریکا میں دائر سول فراڈ مقدمہ نمٹانے کے لیے مجموعی طور پر 18 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے 2024 میں اڈانی خاندان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے بھارت میں قابل تجدید توانائی منصوبوں کے لیے حکام کو رشوت دی اور بانڈز کے ذریعے فنڈز جمع کرتے وقت امریکی سرمایہ کاروں کو انسداد رشوت اقدامات سے متعلق گمراہ کیا۔

مجوزہ معاہدہ عدالت کی منظوری سے مشروط ہے، تاہم اس پیش رفت کے بعد جمعے کو اڈانی گروپ کے حصص میں اضافہ دیکھا گیا۔

اڈانی گروپ بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں شامل ہے، جس کے مفادات توانائی، ایئرپورٹس اور دیگر شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

معاہدے کے تحت اڈانی خاندان نے الزامات کو تسلیم یا مسترد نہیں کیا، تاہم انہیں مستقبل میں امریکی انسداد فراڈ قوانین، سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے، سیکیورٹیز فراڈ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری سے متعلق خلاف ورزیوں سے روکا جائے گا۔

2024 کے مقدمے میں امریکی ریگولیٹر نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اڈانی گروپ نے 750 ملین ڈالر جمع کیے، جن میں تقریباً 175 ملین ڈالر امریکی سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاروں کو اڈانی گرین انرجی کے انسداد رشوت قوانین پر عمل سے متعلق گمراہ کیا گیا۔

اڈانی گروپ نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیا ہے۔

فوربز کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کے اثاثوں کی مالیت 82 ارب ڈالر ہے، جس کے باعث وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز، روئٹرز اور بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری فراڈ الزامات ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ انصاف کا مؤقف اس وقت تبدیل ہوا جب اڈانی نے نئی قانونی ٹیم مقرر کی، جس کی قیادت رابرٹ جے جیوفرا جونیئر کر رہے ہیں، جو امریکا کی ایک بااثر قانونی فرم کے سربراہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی قانونی مشیر بھی ہیں۔

جیوفرا ان وکلا میں شامل تھے جنہیں ٹرمپ نے خاموشی سے رقم ادا کرنے کے مقدمے میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کے لیے مقرر کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق جیوفرا نے گزشتہ ماہ محکمہ انصاف کے حکام سے ملاقات میں مقدمے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مقدمہ ختم کر دیا جائے تو اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 15 ہزار ملازمتیں پیدا کریں گے، جو وعدہ اڈانی نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ ختم کرنے کی ممکنہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی رشوت ستانی کے مقدمات میں کارروائی کم کرنے کی وسیع پالیسی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

بی بی سی نے اس معاملے پر امریکی محکمہ انصاف اور اڈانی گروپ سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔