امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات کی بازگشت؛فریقین کی جانب سے سخت شرائط پیش
ایران کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ انتہائی سخت شرائط عائد کر دی ہیں، ایرانی اجینسی کا دعویٰ
فائل فوٹو
تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری تیز ہو گئی ہے، تاہم دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سامنے سخت ترین شرائط رکھ دی ہیں۔ ایرانی فوجی اور سیکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی معتبر خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ انتہائی سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔
ایجنسی کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں اطراف سے جو مطالبات سامنے آئے ہیں، وہ درج ذیل ہیں
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ 5 سخت شرائط:
-
جنگی ہرجانے کی ممانعت: امریکہ کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کا جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا۔
-
یورینیم کی حوالگی: ایران اپنے پاس موجود 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے گا۔
-
جوہری تنصیبات کی حد: ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی، باقی کو بند کرنا پڑے گا۔
-
منجمد اثاثوں کی ضبطگی: ایران کے (مغربی بینکوں میں) منجمد اثاثوں کا 25 فیصد حصہ بھی اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔
-
جامع جنگ بندی: مذاکرات کو تمام محاذوں پر مکمل طور پر جنگ کے خاتمے سے مشروط کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ 5 جوابی شرائط:
دوسری جانب، تہران نے بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی مطالبات کے سامنے پانچ بنیادی شرائط رکھی ہیں:
-
تمام محاذوں پر جنگ بندی: خطے کے تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں فوری طور پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔
-
پابندیوں کا خاتمہ: ایران پر عائد تمام اقتصادی اور سفارتی پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں۔
-
اثاثوں کی واگزاری: مختلف بین الاقوامی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثے مکمل طور پر واپس کیے جائیں۔
-
جنگی ہرجانے کی ادائیگی: ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے جنگی ہرجانہ ادا کیا جائے۔
-
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی شرائط میں زمین آسمان کا فرق ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے ہی دونوں فریقین ایک دوسرے پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم، ان شرائط کا سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پسِ چلمن مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔