اسرائیلی وزیر کا حزب اللہ کے ہر ڈرون کے بدلے بیروت میں 10 عمارتیں تباہ کرنے کا مطالبہ

اسرائیل صرف حفاظتی اقدامات اور دفاعی شیلڈز کے سہارے ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہ سکتا ،سموٹریچ

May 25, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

یروشلم: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بیروت میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے ہر ایک بارودی ڈرون کے جواب میں لبنان کے دارالحکومت بیروت کی 10 عمارتیں زمین بوس کر دی جائیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک سخت بیان میں مذہبی صیہونی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کو اب حزب اللہ کے دھماکہ خیز ڈرونز کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہو گا۔

حزب اللہ کے ایک ڈرون حملے میں جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے جارحانہ فوجی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

انہوں نے لکھاکہ ہر ایک دھماکہ خیز ڈرون کے بدلے، بیروت میں 10 عمارتیں گرائی جانی چاہئیں۔ ایک بڑے خطرے کا جواب بھی اتنا ہی بڑا اور اہم ہونا چاہیے۔

سموٹریچ نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف حفاظتی اقدامات اور دفاعی شیلڈز کے سہارے ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا، “آپ کسی اسٹریٹجک خطرے کا مقابلہ محض دفاع سے نہیں کر سکتے، بلکہ آپ کو قواعد اور مساوات کو بدلنا ہو گا۔ دشمن سے ایسا عبرت ناک اور غیر متناسب نقصان وصول کر کے ہی تمام محاذوں پر دشمن کے خلاف مساوات کو دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے خصوصی بجٹ کی منظوری

اسرائیلی وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں حزب اللہ کے ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے تکنیکی حل تلاش کرنے کی خاطر تقریباً 2 ارب شیکلز (ملکی کرنسی)، جو کہ لگ بھگ 692 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں، کا ایک خصوصی بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

تاہم ان کا اصرار تھا کہ صرف تکنیکی اور دفاعی اقدامات کافی نہیں ہیں، جب تک کہ لبنان پر ایسا دباؤ نہ ڈالا جائے جو حزب اللہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے۔